نیا زمانہ نئی صبح شام پیدا کر!

نیا زمانہ نئی صبح شام پیدا کر!

چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کی کامیابی کیلئے پاکستان میں خصوصاً بڑے شہروں، میں امن ہونا ضروری ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب  سیاسی نظام سے کرپٹ لوگوں کا صفایا کردیا جائے۔ کراچی چونکہ پاکستان کی بزنس ہب ہے اسلئے اس صفائی کا آغاز وہیں سے شروع کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں سیاسی پارٹیاں کراچی میں سوائے لاشوں اور بھتہ خوری کے عوام کو کچھ نہیں دے پائیں۔ مجبوراً ملک کے عسکری اداروں کو مداخلت کرنا پڑی۔ اب سندھ کی دونوں بڑی جماعتوں کی لیڈر شپ دوسرے ملکوں میں منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ ملک کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کا سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حال بہت برا ہو چکا ہے۔ ایان علی اور عزیر بلوچ کی وجہ سے پیپلز پارٹی مشکلات کا شکار ہوچکی ہے۔  اسکے پرانے لو گ جن کو مسلم لیگ مشکل حالات میں بھی توڑ نہیں پائی تھی اب اپنی ہی لیڈرشپ کی نااہلی اور ان کی لوٹ مار اور بدانتظامی کے ہاتھوں مجبور ہوکر پارٹی کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ساری ٹاپ لیڈر شپ اپنے کارکنوں کو بے یارومدد گار چھوڑ کر باہر بھاگ چکی ہے۔
یہی حال ایم کیو ایم کا ہے بھتہ خوری، منی لانڈرنگ، را سے دوستی اور اس سے پیسے وصول کرنے، ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل جیسے سنگین الزامات کی زد میں آنے کے بعد ایم کیو ایم بیک فٹ پر چلی گئی ہے اور اب اس کی سینئر قیادت بھی چھپتی پھر رہی ہے۔ ہر روز کو ئی نہ کوئی نیا انکشاف سامنے آ رہا ہے۔ گو کہ ایم کیو ایم کا کہنا کہ ان کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کچھ تو ایسا ہے جس کی پردہ داری ہے۔
تحریک انصاف نے صاف ستھری سیاست اور نئے چہروں کو آگے لانے کے نعرے کے ساتھ پاکستانی سیاست میں موجود سیاسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کی لیکن نظریہ اور تربیت کے فقدان کی وجہ سے تحریک انصاف کا سفر جو کہ انقلاب اور تبدیلی سے شروع ہوا تھا وہ سیاسی لوٹوں سے اپنی پارٹی کو بھرنے اور اپنی پارٹی کا حجم بڑا کرنے پر اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ سیاسی لوٹوں کے پارٹی پر قبضہ سے پرانے ورکروں اور نچلی سطح پر نوجوانوں میں ابھی سے پریشانی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ان کو اپنی امیدیں کہ اس ملک پر ایماندار لوگ حکمران ہوں دم تو ڑتی نظر آ رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) بڑی مشکل سے اشٹیبلشمنٹ کو اپنے سارے اختیارات دے کر اپنی حکومت بچا پائی ہے لیکن ان کے بڑے بڑے لیڈروں کے خلاف کرپشن کے کیسز کی فائلیں بھی تیار ہیں اگر یہ لو گ کسی وقت گڑبڑ کرتے ہیں تو  وہ کسی بھی وقت کھل سکتی ہیں۔
اگر مو جودہ سسٹم کو دیکھا جائے تو اس میں کسی قسم کے انقلاب یا تبدیلی کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے بلکہ یہ نظام مزید مضبوط ہو کر عوام پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلئے تیاری پکڑ رہاہے۔ آنے والے دنوں میں اسٹیبلشمنٹ کی حمائت یافتہ سیاسی پارٹیوں کومیدان میں لائے جانے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں اور موجودہ حالات یہ واضح کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی پارٹیوں کے مل کر حکومت  کرنے کے فارمولے کو  ہی آزمایا جائے گا۔
جس طرح  جنرل راحیل شریف  اپنے کام کی وجہ سے عوام  کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں ہو سکتا ہے  آنے والے دنوں میں ریٹائر منٹ کے بعد ان کو سیاست میں اتارا جائے۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی سندھ کے ارکان اور مسلم لیگ(ق) کے لو گوں کو ملا کر سندھ میں ایم کیو ایم اور ملکی سطح پر  پیپلز پارٹی کے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہو نے والے خلا کو پر کرنے کی کو شش کی جائے۔ اور یہ اگلے الیکشن سے پہلے پہلے ہو سکتاہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تجربات کب تک آزمائےجاتے رہیں گے۔ ملکی حالات ایک مضبوط سیاسی سیٹ اپ کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ اس لئے ملک میں سیاسی شعور کو پروان چڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر یہی کھیل کھیلا جاتا رہا تو ملک سیاسی طور پر بانجھ لو گ ہی پیدا کرتا رہے گا اور  ملک کبھی ترقی کے اس لیول تک نہیں پہنچ پائے گا جس تک اس کو پہنچنا چاہئیے۔ ایک مضبوط سیاسی سیٹ اپ ہی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ملک کی اندرونی اور بیرونی صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ یہاں سیاست کو نظریاتی بنیادوں پر پروان چھڑنے دیا جائے۔ ایسے نظریات جن کی بنیاد انسانیت کی فلاح ہو جو بلا لحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت انسانیت کی خدمت پیدا کرنے والے لوگو ں کو آگے لانے میں مدد کرسکیں۔ ماضی میں ایسے لو گوں کو سامنے آنے سے زبردستی روکا گیا جس کی وجہ سے ملک سے نظریاتی سیاست کے ساتھ ساتھ ایمانداری اور اخلاقی اقدار مفقود ہو کر رہ گئیں اور سیاست جیسامقدس پیشہ جس کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت تھا لوٹ ماربےایمانی اور اقتدار کی کرسی تک پہنچنے تک محدود ہوکر رہ گیا۔
ہماری مشرقی سرحدوں پر ایک بڑا ملک ہندوستان جو کہ ہندوازم کو اپنی نظریاتی بنیاد بنا کر آنے والے دنوں میں اپنی بقا کی جدو جہد کرر ہاہے۔ شمال میں چائنہ جو کہ دنیا کی ایک سپر پاور ہے اور کیمیونزم کو اپنی نظریاتی اساس مان کر ترقی کے عروج تک پہنچ گیا ہے۔ ان طاقتوں کے ہمسایہ میں ہوتے ہوئے کیا ہم مستقبل قریب میں اپنے آپ کونظریاتی بنیادوں پر مستحکم کئے بغیر زیادہ دیر تک قائم رکھ پائیں گے؟
پاکستان چونکہ نظریاتی بنیادوں پر قائم  ہوا تھا اسلئے ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہےکہ ہم اپنی نظریاتی بنیادیں قرآن کے آفاقی نظام اور انسانیت کے اس عظیم الشان اور بےبہا  قانون پر استوار کریں۔ ہماری سیاست کی بنیاد بھی الٰہی قانوں پر قائم کی جائے تاکہ ہم ان طاقتوں کے مقابلے میں دینا کو ایک بہتر نظام معاشرت فراہم کرسکیں۔ دنیا کو اب ایک ایسے فلاحی نظام کی ضرورت ہے جو انسانیت کو اسکے اصل مقصد حیات کی طرف راہنمائی کر سکے۔ دنیا کو آئے دنوں کی جنگوں اور اپنی ہی نسل کے قتل عام سے نکال کر اس کو فطرت کے مسخر کرنے کی طرف گامزن کر سکے۔ الٰہی قانون جو کہ ہمارے پاس قرآن کی صورت میں میسر ہے کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا کر ہی یہ ممکن ہو سکتاہے۔
اس وقت ملک کی عسکری قوتوں نے ملک کو ٹھیک کرنے کا بیڑا جو اٹھایا ہے تو میں ان کی توجہ اس طرف ضرور مبذول کروانا چاہوں گا کہ یہی وہ پہلا موقعہ ہے جب پاکستان اپنی حقیقی بنیادوں پر کھڑا ہو رہا ہے۔ یہ ملک خداداد جب سے قائم ہوا اس میں غیر ملکی طاقتیں نبرد آزما رہیں اور اس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی رہیں۔ لیکن اب وہ موقعہ آ گیا ہے جب ہم اپنے پیروں پر خود کھڑے ہو رہےہیں تو کیوں نہ ہم اپنی سیاسی بنیادوں کو اللہ کے بھیجے ہو ئے پیغام پر استوار کریں اور آنے والے دنوں میں اس بھٹکی ہو ئی امت کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں۔ ہماری علاقائی صورت حال بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم ان ممالک کو جو  نظریاتی طور پر اور جغرافیائی طور پر ہم سے ہم آہنگ ہیں جن میں افغانستان اور سنٹرل ایشیاء کی مسلمان ریاستیں ایران اور عرب ممالک کے ساتھ نظریاتی بنیادوں پر ایک اتحاد قائم کریں۔
اگر ہم نے صحیح معنوں میں قرآن کو بنیاد بناکر اپنا نظام سیاست اور حکومت ٹھیک کرلیا تو میں پو رے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والوں دنوں میں پاکستان ہی وہ خطہ ہوگا۔ جو انسانیت کو سوشلزم اور کیپٹلزم جیسے انسانی ازموں سے نجات دلا کر انسانوں کو امت واحدہ بننے کیلئے فطری بنیاد فراہم کر سکتاہے۔
میں اس سلسلے میں اس لئے بھی پر امید ہوں کہ پاکستان کا موجودہ خطہ وہ خطہ ہےجس نے انسانیت کو ماضی میں کئی عظیم الشان تہذیبوں سے روشناس کرایا تھا۔ ہم مہرگڑھ، مو نجو دھاڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسی تہذیبوں کے وارث ہیں۔ ماضی میں بھی یہ خطہ انسانوں کو انسانیت سے روشناش کراتا رہا ہے اور انشاء اللہ میری قوم میں اب بھی وہ پو ٹینشل موجو دہے کہ اگر ان کو صحیح راہنمائی میسر آ گئی تو یہ آنے والے دنوں میں بھی انسانیت کیلئے فلاح کا سامان پیدا کرسکتی ہے۔ اس لئے میں اپنے مقتدر حلقوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ میکاولی کی سیاست کو ملک سے ختم کرکے الٰہی نظام پر مبنی سیاست کو اس ملک میں قائم کرنے کیلئے جدوجہد کریں گے۔ ہم خاکسار اس کام کیلئے اپنے ملک اور قوم کے ساتھ ہیں۔ علامہ المشرقی ؒ کی دی ہو ئی قرآنی فکر اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ بس اس طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔  یہی وہ وقت ہے جب ہم نے یہ کام کر لیا تو ہم آنے والے دنوں میں ایشیاء کے تمدنوں کو دوبارہ بحال کرسکتے ہیں اور انسانیت میں پیار اور اخوت کا جذبہ پیدا کرکے اللہ کی دھرتی کو انسانوں کیلئے جنت بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اللہ میرے ملک اور قوم کا حامی و ناصر ہو۔

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates