پاکستانی سیاست اور انقلاب

پاکستانی سیاست اور انقلاب

پاکستانی معاشرے میں پچھلے70 سالوں میں متعدد مواقع ایسے آئے جب معاشرے کی مختلف  طبقوں کے درمیان مزاحمت کے نتیجے میں اضطراب اور ذہنی ہیجان پیدا ہوا۔ لیکن پاکستانی عوام کی بدقسمتی کہ اس اضطرابکو انقلاب میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی مقتدر قوتوں نے اپنی مرضی سے اس کا رخ موڑ  کر اسے بے اثر بنا دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں عقلی اور شعوری ارتقاء رک گیا اور پاکستانی معاشرہ جمود کا شکار ہو گیا۔ اور اب یہ معاشرہ سرانڈ مار رہا ہے۔
یہاں عوام کوتبدیلی  اور انقلاب کے نام پر کئی باربے وقوف بنایا جا چکا ہے۔ اور یہ تسلسل  آج  تک جاری و ساری ہے۔پاکستانی سیاست میں تقریباً ہر دس یا گیارہ برس کے بعد کو ئی نہ کو ئی سیاسی تبدیلی  یا ہلچل ضرور ہوتی رہی ہے جس کے نتیجے میں  اقتدار کی ہماکبھی سیاستدانوں تو کبھی فوج  کے سر پربیٹھتی  رہی ہےاور  ہراُس مثبت انقلاب اور تبدیلی کا رخ مو ڑ دیا جاتا رہا ہے جس سے یہاں کے عوام کی بہتری کی امید کی جا سکتی تھی۔
پاکستان بننے کے بعد ۱۹۴۷ء سے لیکر ۱۹۵۸ء تک کا  عرصہ جاگیردار سیاستدانوں کے استحصال کا ایک لامتناہی سلسلہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس استحصال  کے نتیجے میں  حکمرانوں کے خلاف لوگوں کے ذہنوں میں زبردست اضطراب پیدا ہوا  جس کو  فوج کو آگے لاکر ایوب خان کے ذریعے سے زائل کرنے کی کو شش کی گئی۔ عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوتے غصے اور ہیجان کو وقتی طور پر دبا دیا گیا لیکن ۱۹۶۵ء کے الیکشنز میں یہ غصہ ایوب خان کے خلاف محترمہ  فاطمہ جناح کی حمائت کی صورت میں دیکھنے میں آیا اور پھر عوامی ابھار کے نتیجے میں ۱۹۶۸ء میں ایوب  خان کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔
۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۷ء تک کا دور سیاسی طور بڑا ہیجان  انگیز اور پاکستان کیلئے ابتلاؤں کا دور رہا۔ ایوب خان اور پھر یحیٰ خان کی آمریت کے خلاف عوام کا غم و غصہ  پاکستان کے دونوں حصوں یعنی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان  میں اپنی انتہاؤں کو چھونے لگا۔ مشرقی پاکستان کے لوگ جب حکمرانوں سے مایوس ہوئے تو انہوں نے علیحدگی کی تحریک کو جنم دیا۔ مشرقی پاکستان کی تحریک حکمران طبقے کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئی اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔
مغربی پاکستان کے لوگوں میں سیاسی شعور نے  جو انگڑائی لی وہ پیپلزپارٹی کے قیام پر منتج ہوئی اور پھر پیپلزپارٹی میں عوام کی دلچسپی اور عوامی جذبات کو کنٹرول کرنے کیلئے ذولفقار علی بھٹو صاحب کو آگے لایا گیا جنہوں نے اس سیاسی ابھار اور عوام کے بدلتے تیور کو لگام دی۔ بھٹو  صاحب سے جذباتی تقریریں کروا کے ان کو ہیرو بنایا گیا اور پیپلز پارٹی پر اسٹیبلشمنٹ کا ہولڈ کروایا گیا۔ اور اس کے اصل بانیوں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ اور اس اٹھنے والے عوامی انقلاب کو ایک بار پھر روک دیا گیا۔ بھٹو صاحب نے کہیں اسلامی سوشلزم کا شوشا چھوڑا تو کہیں قادیانوں کو غیر مسلم قرار دیکر مذہبی لوگوں کو ساتھ ملانے کی کو شش کی اور  نیا آئین بناکر سیاسی لوگوں کو لالی پاپ دیا گیا اور جب اندرونی اور بیرونی طاقتوں نے دیکھا کہ بھٹو نام کے پٹاخے کا بارود ختم ہو چکا ہے اور اس کی مزید ضرورت نہیں رہی تو بھٹو صاحب کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
اگلےگیارہ سال میں ۱۹۷۷ء سے لیکر ۱۹۸۸ء تک افغان جنگ  کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر  عوام کا مقدر بنے۔ اس جنگ نے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کے ساتھ   ساتھ قوم کی ذہنی صلاحیتوں  کو ختم کرنے کے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کے خلاف معاشرہ  وقتاً فوقتا احتجاج کرتا رہا لیکن اس کو دبایا جاتا رہا۔ اس کے باوجود عوام ایک بار پھر سے خود کو اس گھٹن زدہ ماحول سے آزاد کروانے کیلئے سرتوڑ کو ششوں میں لگ گئی ۔
اب کی بار بھٹو کی بیٹی نے اس عوامی سیلاب کے آگے بند باندھا ۔ اپنے والد کی پھانسی کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کرعوام کے غم و غصے  کو الیکشن بازی اور جمہوریت کا لالی پاپ دے کر ختم کرکے رکھ دیا ۔عام عوام صرف ووٹ دینے اور نعرے لگانے تک ہی محدود رہی ۔ لیکن اس کی محرومیوں کا ازالہ کبھی نہ ہو سکا۔
۱۹۸۸ء سے لیکر ۱۹۹۹ء تک ملک میں سیاسی نااہلوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیاں آنکھ مچولی رہی اور  ایک بار پھر ملکی حالات اس نہج پر پہنچا دئیےگئے کہ عوام کا غصہ ان حکمرانوں کے خلاف اپنی آخری حدوں کو چھونے لگا۔ جس کو پھر فوجی آمر پرویز مشرف کے ذریعے  ختم کرنے کی کو شش کی گئی۔
آمریت کا دور ایک بارپھر شروع  ہوا۔ بیرونی قوتوں کے پاکستانی سیاست میں غیر معمولی عمل دخل اور سیاسی بانجھ پن کی بدولت عوام حکومت سے متنفر ہو تی چلی گئی۔
۱۹۹۹ء سے۲۰۰۷ء تک  یہ پہلا موقع تھا جب عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی بے چینی نے گیارہ سال کی بجائے صرف آٹھ سال لئے اور وکلاء تحریک کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی۔ جس کو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو دوبارہ سیاسی دھارے میں شامل کرکے روکا گیا۔ وکلاء تحریک جوکہ مڈل کلاس نے شروع کی تھی اور مڈل کلاس کے لوگ ہی اس کے روح رواں رہے لیکن بعد میں سیاسی لیڈروں کے ذریعے اس کو ہائی جیک کیا گیا اور اس کو صرف چیف جسٹس کی بحالی تک محدود کرکے رکھ دیا گیا۔ حالانکہ یہ تحریک پاکستان میں پہلی بار پڑھے لکھے اور باشعور طبقے نے چلائی تھی اور اس کے عروج کے دنوں میں اس کو اٹھا کر پٹے  ہو ئے مہروں  اور ملک   سے بھاگے ہو ئے سیاستدانوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ اور یہ تحریک سوائے سیاسی ماحول میں ایک ہل چل پیدا کرنے کےکسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ نہ بن سکی۔
۲۰۰۷ء کے بعد کے اگلے دس سالوں کا حال موجودہ  نوجوان نسل اپنےسامنے رو نما ہو تا  دیکھ رہی ہے۔  محترمہ بے نظیر  بھٹو کا قتل  ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت بنانے کا سبب بنا۔ نواز شریف اور آصف علی  زرداری نے ماضی کی آپس کی دست و گریبان ہونے کی سیاست سے پرہیز کرنے  اور میثاق جمہوریت  پر عمل درآمد کرنے کا  مصمم ارادہ ظاہر کیا۔ جس کی بدولت پیپلز پارٹی اپنے پانچ سال مکمل کرنے میں کامیاب رہی لیکن پیپلز پارٹی کے لوگوں کی کرپشن، زرداری صاحب کے خلاف کیسز، توانائی کے  بحران نے  عوامی غم و غصے کو اپنی انتہا تک پہنچا دیا۔
نواز شریف اورآصف علی زرداری کے آپس میں دست و گریبان نہ  ہونے کی وجہ سے فوج کا حکومت میں عمل دخل کم ہوتا چلا  گیا۔ لیکن پاکستان کی  علاقائی صورتحال ایسی نہیں تھی کہ ملک  کو صرف سیاست دانوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا جاتا۔ اس لئے  جمہوری حکومت کے اگلے پانچ سال شروع ہونے سے پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ نےحکومت میں پاور شئیرنگ  کیلئے تیاری کر لی۔
اسکے لئے دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے مقابلے میں ایک تیسری نئی سیاسی پاور کا ہونا ضروری تھا ۔  تاکہ اس کو  ایک پریشر گروپ کے طور  پر استعمال کیا جاسکے ۔اسلئے  بڑی پلاننگ کے ذریعے مہروں کو آگے بڑھایا گیا۔ حکومت اور کرپشن کی ہاہا کار ،بجلی پانی کا بحران    سیاستدانوں سے نفرت کا سبب بنتا چلا گیا اور ماحول کو ایک بار پھر انقلاب اور تبدیلی کے خوش کن   نعروں سے گرما دیا  گیا۔ اسکے لئے تحریک انصاف اور  طاہر القادری  صاحب کی جماعتوں سے معجون تیار کی گئی۔ جو کہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے طاقت کا سبب بنتی چلی گئی۔
2013 کے الیکشن  کےنتائج    کو ماننے کے باوجود اس کے خلاف دھاندلی کو بنیاد بنا کر عَلم بغاوت بلند کیا  جانا اور پھر 126 دنوں کا دھرنا۔ عمران اور قادری صاحب  کے نئے پاکستان کے دعووں  کے  نتیجے میں عوامی جذبوں کو ایک بار پھر چونا لگا یاجانا ۔ اور اسٹیبلشمنٹ کا  اصل طاقت کو اپنے ہاتھ میں لے لینا خود اپنی کہانی آپ بیان کر رہا ہےکہ یہ سارا کھیل  بلیوں کو لڑوا کر خود روٹی کو  ہڑپ کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔
اب اگر عمران اس ساری گیم کو پوری طرح سمجھ بھی جاتا ہے تو اس کھیل میں  وہ اس حد تک آگے جاچکا ہے کہ وہ  ہزار خواہش کے باوجود بھی اس سے باہر نکل نہیں پائے گا۔  کیونکہ طاقت اب  خفیہ ہاتھوں میں جاچکی ہے۔ ملک کی فوج اور دوسرے عسکری ادارے ملک کی خارجی  اور داخلی سیاست کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں۔ نئے پاکستان کے چکر میں نئے نئے بننے والے سیاست دان  اپنے  اور اپنے دوسرے ساتھی سیاستدانوں کے ہاتھ کاٹ کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں دے چکے ہیں۔
ملک کی عسکری قوتوں نے ملک سے کرپٹ اور شر پسند عناصر کا صفایا شروع کر دیا ہوا ہے اور ان کی حمائت کا گراف عوام میں دن بدن اوپر ہوتا چلا جارہا ہے۔ میڈیا میں ملک کے سپہ سالار کے ملک کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو چوبیس گھنٹے  سراہا جارہاہے۔ اور ۲۰۱۸ء  تک جب یہ گیارہ سال مکمل ہوں گے اور ۲۰۱۸ء کا سال ایک بار پھر تبدیلی کا سال ہو گا۔ دیکھیں اسٹیبلشمنٹ براہ راست قوت اور حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیتی ہے یا پھر بلیوں کو تھوڑی تھوڑی روٹی ڈال کر اپنا ہمنوا بنا کر کام چلاتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ بلیاں بلیاں ںہی رہیں گی۔ اقتدار اور کرسی کی بھوکی رہیں  گی اور عوام کو بے وقوف بناتی رہیں گی۔ اور عوام نئے پاکستان کا خواب دیکھنے کیلئے ایک بار پھر اگلے گیارہ سال کیلئے سلادی جائے گی۔

اللہ میرے ملک اور قوم کا حامی و ناصر ہو ۔

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates