ایران سے ایٹمی معاہدہ کیوں؟

ایران سے ایٹمی معاہدہ کیوں؟

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ایران کیلئے ایک بہت بڑی پیشرفت ہے۔ لیکن امریکہ عرب خطے میں اپنے بڑے اتحادی ممالک سعودی عرب اور اسرائیل کی مرضی کے خلاف یہ معاہد کرنے پر کیوں راضی ہوا؟ اس نے اپنے ان دونوں اتحادیوں حتٰی کہ اپنے شہریوں کو جو کہ اس معاہدہ کے خلاف ہیں کو ناراض کرنا قبول کر لیا لیکن وہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کرنے سے باز نہیں آیا حالانکہ کہ بظاہر اس میں امریکہ  کی بجائے سرا سر فائدہ ایران کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس معاہدہ کے بعد پابندیوں کے اٹھنے کی وجہ سے اس کی مختلف بنکوں میں پڑی اربوں ڈالر کی رقوم ریلیز ہونے سے اس کی اقتصادی حالت بہتر ہو گی۔ ملکوں کے ساتھ تجارت سے اور تیل کی آمدن بھی اس کے ملکی حالات پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گی تو آخر یہ گھاٹے کا سودا امریکہ کو کیوں کرنا پڑا کیوں اسے اپنے دوستوں کو ناراض کرنا پڑا؟
بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے لو گ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی افغانستان میں وہ اہداف حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں جن کیلئے انہوں نے طویل عرصہ تک جنگ لڑی ۔ ہندوستان کو اپنے قبضہ میں رکھنے کیلئے 1947 میں اس کو تقسیم کرنے کے بعد شروع ہو نے والی اس محازآرائی میں لاکھوں لو گوں کی قربانی ،کھربوں ڈالر افغانستان اور عراق پر قبضے کی جنگوں میں جھونک دینے کے بعد بھی حالات کو وہ اپنے حق میں کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
روس کو افغانستان سے پیچھے دکھیلنے اور اس کوگرم پانیوں تک رسائی نہ دینے کیلئے پاکستان کی صورت میں تیار کیا جانے والا پھندہ خود امریکہ اور یو رپ کی گردن کے گرد بری طرح کسا جا چکا ہے ۔  اب امریکہ جو پہلے دینا کی واحد سپر پاور کے طور پر ہر طرف دندناتا پھر رہا تھا اور ۹/۱۱ کے بعد جس نے پو ری دنیا پر اپنی فوجی طاقت کو مسلط کرنے کیلئے ایک بہت بڑی جنگی چال چلی اور دنیا کے بڑے بحری تجارتی راستوں پر اپنا کنٹرول کرنا چاہا جس میں وہ وقتی طور پر کچھ کامیاب بھی ہوا لیکن افغانستان میں اپنے بے پناہ وسائل اور فوجی قوت کو جھونکنے کے باوجود اس کو اپنا مشن یہاں سے ادھورا چھوڑ کر واپس جانا پڑا ۔
امریکہ کی کامیابی اس میں تھی کہ وہ افغانستان کے ساتھ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو اپنے کنٹرول میں کر لیتا، تاکہ وسطی ایشیاء کی ریاستیں اور چین بھی گرم پانیوں کے ذریعے تجارت کرنے کیلئے امریکہ کا مرہون منت ہو جاتا اور کریمیا کی بندرگاہ پر کنٹرول حاصل کرکےروس کی رسائی ایشیاء اور یو رپ تک محدود کر دیتا۔ اسطرح امریکہ اور یو رپ ایشیا ءکی تجارت پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے۔ جس سے ایک بار پھر یو رپ کی دم توڑتی صنعتوں کو خام مال آسانی سے مل جاتا اور امریکہ عسکری لحاظ سے دنیا کی واحد سپر پاور بنا رہتا۔
لیکن پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس کے تما م منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ امریکہ نے بلیک واٹر اور دوسری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مددسے سوات میں طالبان کی ذریعے سے اور بلوچستان میں انڈین انٹیلی جنس راء کی مدد سے بڑے پیمانے پر گڑ بڑ پیدا کی  ۔ لیکن پاکستانی اجنسیوں اور پاک فوج نے طالبان جو کہ دراصل امریکی ایجنسیوں کے ٹرینڈ لوگ تھے کو یاتو مار دیا یا پھر ان کو واپس اپنی بلوں میں گھسنے پر مجبور کر دیا گیا۔
پاکستانی ایجنسیوں کی شاندار کارکردگی نے روس اور چائنہ کو پاکستان کے قریب ہو نے کا موقع فراہم کیا اور ان دونوں کے پاکستاں کے ساتھ مل جانے نے کی وجہ  امریکہ اور یورپ کو وہ کامیاں جن کی وہ توقع کررہاتھا نہیں مل پائیں ۔ کریمیہ کے معاملے میں روس کی جارحانہ پالیسی اور اس کو اپنا حصہ بنا لینا یو رپ کی اور امریکہ کی ایک بہت بڑی شکست تھی ۔ ادھر گوادر جو ایشاء کی تجارت کیلئے دہانا تصور کیا جا رہا ہے اس پر چائنہ اور پاکستان کے اتحاد نے امریکہ کو اس کے اہداف سے کو سوں میل دور کر دیاہے ۔ چائنہ پاکستان اور روس کی ٹرائیکا آنے والے دنوں میں ایشیاء میں اپنا رول پلے کرتی دکھائی دیتی ہے ۔
اپنے ان منصوبوں میں ناکام ہو نے کے بعد امریکہ ابھی پیچھے نہیں ہٹا کیونکہ وہ ہندوستان اور پاکستان کا علاقہ کسی صورت میں اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتا اس کیلئے اس نے پاکستان کے ساتھ پیدا ہونے والی دوریوں اور اس کو سبق سکھانے کیلئے اب انڈیا کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیاہے ۔ اور ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایران کو پابندیوں سے آزاد کیا جائے ۔ اور پھر انڈیا اور ایران کے ساتھ مل کر گوادر کے متبادل کے طور پر چاہ بہار کی بندرگاہ کو وسط ایشیاکی ریاستوں سے تجارت کیلئے استعمال کیا جائے۔ انڈیا کی وسط ایشیائی ریاستوں اور روس سے زمینی تجارت کا راستہ پاکستان کے سے ہو کر گزرتا ہے اس لئے انڈیا کو یہ کسی طور بھی منظور نہیں کہ پاکستان اس حد تک مضبوط ہو ہو جائے کہ آنے والے دنوں میں اسےپاکستان پر انحصار کرنا پڑے۔ اور چائنہ اور پاکستان مل کر بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند پر اپنی گرفت مضبوط کرکے اس کو بے دست و پا کریں ۔ چائنہ پاکستان اقتصادی راہ داری صرف چائنہ کیلئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ یہ پو رے ایشیاء کو آپس میں جو ڑنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ جس میں آنے والے دنوں میں انڈیا کا رول کم سے کم ہو تا چلا جائے گا اور اس کا پاکستان پرانحصار تجارت کی غرض سے زیادہ سے زیادہ ہوتا جائے گا۔
کریمیہ اور گوادر کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد ایران کی بندرگاہیں بچی ہیں جن سے امریکہ ،یورپ اور انڈیا اُسی وقت فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب ایران کی حمائت کےساتھ ساتھ افغانستان میں انڈین اور ایرانی حمائت یافتہ حکومت ہو۔  یہ اسی وقت ممکن ہو سکتاہےجب پاکستان کو غیر مستحکم کرکے کمزورکر دیا جائے ۔ پاکستانی علاقوں میں شورش ، افغانستان میں بم دھماکے اور وہاں کے حکمرانوں کی حکومت پاکستان پر تنقید ، پاکستان میں سیاسی لو گوں کے پاکستانی فوج اور اس کی اجنسیوں پر الزامات اور پاکستانی اجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ریٹائڑد افسروں کا قتل جو کہ عسکری اداروں اور عوام کے درمیان تعلقات کو بحال کرنے کا فر یضہ سر انجام دے رہے تھے یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں اور ان کے پیچھے انڈین انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنے حمائتیوں کے ساتھ مل کر پو ری طرح انوالو ہیں۔
ایران کو ساتھ ملا کر امریکہ کئی فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ وہ ایران اور پاکستان کو ایک دوسرے کے مقابلے پر لاناچاہتا ہے تاکہ ایران بھی اپنی بندرگاہوں کو فعال بنا کر اس تجارت سے فائدہ اٹھا ئے اس کیلئے ایران بھرپور کو شش کرے گا کہ گوادر سے زیادہ اس کی بندر گاہوں کے ذریعے سے تجارت ہو اور یہ مقابلہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان اختلافات پیدا کر سکتاہے۔امریکہ ایران سے قربت پیدا کرکے عراق اور شام کے مسئلے کو بھی اپنی مرضی سےحل کرنا چاہتا ہے ۔ گو کہ اس سلسلے میں سعودی عرب اس کیلئے مسائل پیدا کر سکتاہے لیکن امریکہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یمن کے معاملے میں سعودی عرب اس حد تک دھنس چکا ہے کہ وہ اب اس کی مدد کے بغیر وہاں سے نہیں نکل سکتا اور اگر سعودی عرب نے کچھ گر بڑ کی بھی تو ایران کے ذریعے سعودی عرب کو سیدھا کیا جا سکتاہے ۔
عرب ممالک بھی اس سلسلے میں امریکہ اور انڈین منصوبوں کی حمائت کریں گےکہ ایران اور پاکستان کے حالات ٹھیک نہ ہو نے پائیں اور دونوں ملک ایک دوسرے کے مقابلے پر رہیں ۔ اگر پاکستان ایران کے تعلقات مضبوط ہو تے ہیں تو انرجی کی ضروریات پو را کرنے کیلئے پاکستان عرب ممالک کا محتاج نہیں رہ پائے گا۔جس سے عرب ممالک کے پاکستانی خطے میں مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ یہ بات انڈیا اور عرب ممالک کو قریب لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ایران کا یہ معاہدہ آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیاء کو ایک بار پھر جنگ کی آگ میں دھکیل سکتا ہے۔ انڈیا اس معاہدے سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کو شش کرےگا اور اس نے اس پر عمل درآمد کرنا بھی شروع کر دیا۔ آنے والے دنوں میں روس بھی گوادر بندر گاہ  کے ذریعے تجارت کرنے کے بجائے ایران کی بندر گاہوں کے ذریعے تجارت کرنے کو ترجیح دے سکتا ہے جو کہ انڈیا کے حق میں جائے گا۔ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ انڈیا سے ہے جہاں پر ایک کٹر ہندو اس وقت حکمران ہے اور اس کو لایا ہی اس خطہ میں آگ لگانے کیلئے گیا ہے ۔اس لئے آنے والے دن پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کیلئے بڑے امتحان کے دن ہیں ۔ ان کو افغانستان اور پاکستان دونوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہو گی اور انڈین اور امریکن اجنسیوں کے منصوبوں کو ناکام بنانا ہو گا ۔ کرنل (ر) شجاح خانزادہ کی جو کہ نیشنل ایکشن پلان میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے کی شہادت اسی سلسلے کی ایک کڑٰی ہے ۔ اور ملک کی مخالف ایجنسیوں کی بڑی کامیابی ہے ۔ آنے والے دنوں میں ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ہو گی ورنہ دشمن اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہو جائےگا۔
ایران امریکہ معاہدہ اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے ۔ اور یہ امریکہ اور یو رپ کی اس خطے میں اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کی آخری کوشش بھی ہے ۔ انکی کوشش ہو گی کہ انڈیا کی پیٹھ ٹھونکی جائے اور پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے۔ اور ان دونوں کو لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں ۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ انڈیا ہو ش کے ناخن لے اور پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کو شش کرے اور پاکستان بھی انڈیا کے ساتھ مل کر سرحدوں پر ہو نے والی خلاف ورزیوں کو روکے۔ ورنہ یہ خطہ کسی وقت بھی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے اور یہ جنگ پو رے ایشیاکو لپیٹ میں لےسکتی ہے۔
اللہ میرے ملک اور قوم کا حامی و ناصر ہو۔

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates