پریس ریلیز – علامہ المشرقیؒ کانفرنس ۲۷ اگست ۲۰۱۵ء

پریس ریلیز – علامہ المشرقیؒ کانفرنس ۲۷ اگست ۲۰۱۵ء

لاہور (پ ر) قائد تحریک ڈاکٹر صبیحہ المشرقی نے کہا ہے قوم افواج پاکستان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی جن کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ہورہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے تمام کریڈٹ کی مستحق ہماری مسلح افواج ہیں، پاک فوج کے جوانوں اور افسروں نے اپنی قیمتی جانوں تک کی عظیم قربانی پیش کر کے مادرِوطن کو اندرونیِ شورش سے محفوظ رکھنے کیلئے ایسی مثال قائم کی ہے جس پر پاکستانی قوم تا اَبد ان کی ممنون و محسون رہے گی اور ان پر فخر کرے گی۔ علامہ عنایت اللہ خان المشرقی کی ۲۵ ویں برسی کی موقع پر ”علامہ عنایت اللہ خان المشرقی کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے کہے قائد تحریک نے اپنے طویل خطاب میں کہا کہ مادرِ وطن کے ان سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہوں نے جس عظیم مقصد کیلئے اپنا آج قربان کیا ہے ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے لوگ اس عظیم مقصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ اس پُر خطر محاذ پر لڑنے والے اپنے آج کو قوم کے مستقبل پر قربان کر رہے ہیں۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے جن ماؤں نے بیٹوں اور جن بہنوں نے بھائیوں کی قربانی دی، قوم کو ان پر فخر ہے اور جن بیویوں نے اپنے شوہروں کی اس جنگ میں قربانی دی، قوم ان کے حوصلے کی داد دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہہ کہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کا سلسلہ شدت پکڑ گیا ہے۔ وطن عزیز کی سرحدوں پر مسلسل گولہ باری دراصل پاکستان پر پریشر ڈال کر پاک چین دوستی کے نتیجے سے بننے والی اکنامک کوریڈور کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنا ہے اسی سلسلہ وزیراعظم نریندر مودی پچھلے دنوں بنگلہ دیش میں اشتعال انگیز بیان دے چکے ہیں وہ کھل کر پاکستان کی سالمیت پر حملہ آور ہوئے وہی تاریخ بلوچستان میں دھرانا کی سازشیں کررہے ہیں، کراچی میں ”را“ کے ایجنٹ ایک جماعت کے ساتھ مل کرکے ملکی سلامتی اور عوام دشمنی میں زور شور سے عمل پیرا ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنماء الیکشن کمیشن کی آڑ میں اپنے مفادات کے تابع سیاسی نوارا کُشتوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ کیا ملکی سلامتی اور استحکام کا دارومدار صرف اور صرف دفاعی اداروں پر ہے؟
اسٹیبلشمنٹ مسئلہ کشمیر کو گزشتہ کئی سالوں سے پسِ پشت ڈال چکی ہے لیکن سفارتی بات چیت اور سرکاری خبروں میں اس کا علامتی سا ذکر بہرحال کیا جاتا ہے۔ کشمیر میں استصواب رائے کی باتیں بھی اب ماضی کا افسانہ بن گئی ہیں۔ ڈیڈلاک برقرار رہے گا۔ تعلقات میں حالیہ کشیدگی میں بنیاد پرست بی جے پی کی حکومت کے کردار کو بھی مبالغہ آرائی سے پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ۸۶ سالوں میں ’’سیکولر‘‘ کانگریس بھی کئی بار برسر اقتدار آئی ہے لیکن یہ معاملات تب بھی طے نہیں پاسکے۔ درحقیقت دونوں ممالک کے حکمران طبقات ان تضادات کو مسلسل سلگائے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عوام کے حقیقی مسائل اوپر طبقاتی تضادات کو دبائے رکھا جائے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ریاستیں فل سکیل جنگ لڑ ہی نہیں سکتی ہیں، اس نظام میں جنگ کے بغیر جنگی جنون اور نتائج کے بغیر کھوکھلے مذاکرات کا یہی گھن چکر جاری رہے گا۔
بڑے اسلامی برادر سعودی عرب کے حکمران پہلے ہی یمن فوج بھیجنے کی حکم عدولی پر خاصے برہم دکھائی دیتے ہیں۔ خود تو شاید وہ ڈھکے چھپے الفاظ میں لعن طعن کر رہے ہوں لیکن متحدہ عرب امارات جیسی اپنی کٹھ پتلی حکومتوں سے تمام تکلفات سے ماورا بیانات جاری کروا رہے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی خاص ”دوست ممالک“ بچے نہیں ہیں۔ نریندرا مودی کے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات پر ہونے والے پرتپاک استقبال نے ”امت مسلمہ“ اور ”برادر ممالک“ کا فریب بالکل ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ یہاں کے سرکاری دانشوروں کی مسلط کردہ اخلاقیات، اقدار اور دوست و دشمن کے تصورات ہوا میں تحلیل ہوگئے ہیں۔ شیخوں کی طرف سے مودی کو دیا جانے والا سرکاری پروٹوکول کسی شہنشاہ سے کم نہ تھا۔ اس کا بھرپور فائدہ مودی نے اٹھایا اور اپنی تقریر میں پاکستان کا تذکرہ کچھ ان الفاظ میں کیا: ”۱۹۹۳ءکے ممبئی دھماکے اور۱۱/۲۶ جیسے وحشیانہ حملے کرنے والوں کو اب بھی پاکستان پال پوس رہا ہے۔ ان مجرموں کو سزا ملنی چاہئے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارت اور متحدہ عرب امارات عالمی کوآپریشن اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی اپیل کرتے ہیں۔“
متحدہ عرب امارات نے اس موقع پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مستقل سیٹ کے لئے بھارت کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ پوری دنیا میں ”جہاد“ کی فنڈنگ کرنے والے شیخوں نے حیران کن طور پر متحدہ عرب امارات میں پہلے مندر کی تعمیر کے لئے جگہ الاٹ کرنے کا اعلان بھی کیا جس پر مودی نے شکریہ ادا کیا اور ان کے لئے خصوصی دعا کی۔ لیکن اس دورے کا سب سے اہم پہلو متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہندوستان میں 75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان تھا۔ پاکستانی حکمرانوں کے معاشی پالیسی ساز اس اعلان کے بعد سے سکتے کے عالم میں ہیں۔

انہوں نے آخرمیں کہاکہ خارجہ پالیسی داخلی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔ عوام نسل در نسل سرمایہ دارانہ معیشت کے بحران سے برباد ہو رہے ہیں تو حکمرانوں کے ادارے بھی مسلسل زوال پزیری کا شکار ہیں۔ موجودہ حکومت میکرو اکنامک اعداد و شمار کو رنگ روغن کر کے سامراجی مالیاتی اداروں سے ریٹنگ تو لے رہی ہے لیکن داخلی و خارجی پالیسیوں کی طرح یہ اعداد و شمار بھی عوام کے مفادات سے متضاد ہیں۔ حکمرانوں کا اعتماد خود اپنے نظام پر سے اٹھ چکا ہے جو اپنے قوانین کے مطابق بھی چلنے سے قاصر ہے اور معاشرے کو ترقی دینے کی صلاحیت سے تاریخی طور پر محروم ہو چکا ہے۔ اسے اکھاڑ پھینکنے کا تاریخی فریضہ غریب اور متوسط عوام اور نوجوانوں کو ہی ادا کرنا ہے اور یہ فریضہ اُس وقت ادا ہوسکتا ہے جب عوام اور نوجوان نسل گراس روٹ لیول پر علامہ عنایت اللہ خان المشرقی کے دیئے ہوئے محلہ وار نظام کے تحت منظم اور متحد نہیں ہوتی اسی نظام کے ذریعے ہی ایک عظیم انقلاب کی بنیادیں مضبوط بنیادوں پر استوار ہوسکتی ہیں اور اس کے بعد ہی انقلابی تبدیلی نہ صرف معیشت کو منڈی کی لوٹ مار اور انتشار کی بجائے انسانی ضرورت کے مطابق منصوبہ بندی کے ماتحت کرے گی بلکہ خارجہ پالیسی بھی عوام کی امنگوں کے مطابق ترتیب پائے گی۔ اس کا مقصد دوسرے ممالک کے حکمرانوں کی بجائے عوام سے یکجہتی اور جڑت پیدا کرکے دنیا بھر سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہوگا۔ کانفرنس سے نائب قائد تحریک نثار احمد خان، معتمد خصوصی قاسم الکریم، ڈپٹی سیکریٹری جنرل ضیغم المشرقی ڈاکٹر بشیر اختر، ناظم ڈویژن راولپنڈی سعید احمد ڈار، خاکسار یونس بھٹی، ںاظم اعلیٰ سندھ خاکسار عزم حیدر، نائب ںاظم اعلیٰ سندھ خاکسار عبدالقیوم دامراہ، سالار شہر پشاور عدنان احمد ضیاء، سالارِ شہر لاڑکانہ دیدار احمد شیخ،  خاکسار افتخاراحمد (ہری پور)، خاکسار نثار حویلیاں، خاکسار زرشاد احمد، سالار شہر حویلیاں بلال حیدر،  مبارک خان افغانی، خاکسار شبیر سندھو اور دیگر خاکساران نے خطاب کیا۔

خاکسارمیڈیا سیل

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates