گاندھی جی برطانیہ کے ایجنٹ تھے!

گاندھی جی برطانیہ کے ایجنٹ تھے!

موہن داس کرم چند گاندھی بھارت کے سیاسی اور روحانی راہ نما اور تحریک آزادی کے اہم ترین کردار تھے۔ بھارت میں انھیں احتراماً مہاتما گاندھی، باپوجی، اور راشٹرپتا (بابائے قوم) کہا جاتا ہے۔

ہندوستانی قوم کی نظر میں گاندھی جی کے مقام و مرتبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا تصور کیجیے اگر کوئی انھیں ببانگ دہل غیرملکی جاسوس قرار دے تو کیسا ہنگامہ نہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ بھارت میں ان دنوں یہی کچھ ہورہا ہے۔ باپوجی کو غیرملکی ایجنٹ کہہ کر کروڑوں ہندوؤں کے جذبات مجروح کرنے والا کوئی ایرا غیرا شخص نہیں، سپریم کورٹ آف انڈیا کا سابق جج ہے۔
جسٹس مرکنڈ ے کاٹجو اپریل 2006ء سے ستمبر 2011ء تک سپریم کورٹ میں جج کے منصب پر فائز رہے۔ ریٹائرمنٹ سے ایک برس قبل ہی پریس کونسل آف انڈیا کا چیئرمین مقرر کردیا گیا تھا۔ اس عہدے پر وہ اکتوبر 2010ء سے اکتوبر 2014ء ذمے داریاں انجام دیتے رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف، مرکنڈے کاٹجو اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے ہمیشہ تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ قربی حلقوں میں انھیں ایک ایسا شخص تصور کیا جاتا ہے جو لگی لپٹی رکھے بغیر بات کہنے کا عادی ہے، چاہے اس اقدام کا نتیجہ اسے تنقید اور طنزوتشنیع کی صورت ہی میں کیوں نہ بھگتنا پڑے۔
کاٹجو نے قانون کی پریکٹس کا آغاز 1970ء میں الہ آباد ہائی کورٹ سے کیا تھا۔ 1991ء میں وہ مذکورہ عدالت کے جج بنے۔ اگست 2004 ء میں انھوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ تین ماہ بعد ہی انھیں مدراس ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنادیا گیا۔ اکتوبر 2005ء میں انھیں دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی کرسی سونپ دی گئی۔
اپریل 2006ء میں انھیں سپریم کورٹ کے ججوں میں شامل کرلیا گیا۔ یہاں وہ ساڑھے پانچ سال تک فرائض منصبی انجام دینے کے بعد 19 ستمبر 2011ء کو ریٹائر ہوئے۔ سپریم کورٹ میں وہ برق رفتاری سے کیسز نمٹانے والے جج کے طور پر معروف تھے۔ وہ ہفتے میں سو سے زائد کیس نمٹاتے تھے۔ عدالتی حلقوں میں انھیں زبردست، جرأت مند، اور بہترین جج جیسے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔
ماضی میں مرکنڈے مختلف موضوعات، شخصیات اور معاملات پر اظہار خیال کرتے رہے ہیں، مگر اس بار انھوں نے باپوجی پر برطانیہ کا ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کرکے انتہائی جرأت مندی کا ثبوت دیا ہے۔
بہ الفاظ دیگر انھوں نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ اس بات کا انھیں یقیناً علم تھا کہ بابائے قوم پر اتنا سنگین الزام عاید کرنے کا نتیجہ کڑی تنقید کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ مگر ’عادت سے مجبور‘ جج نے یہ اقدام اٹھا ہی لیا۔ چند روز قبل انھوں نے فیس بُک پر ایک طویل پوسٹ کی جس میں گاندھی کو برطانوی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے اپنے مؤقف کی حمایت میں دلائل بھی پیش کیے۔

اس پوسٹ کا آغاز انھوں نے یوں کیا:

’’ جانتا ہوں کہ اس پوسٹ کے بعد مجھ پر بے تحاشا سنگ باری ہوگی مگر مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کیوں کہ مجھے شہرت اور نیک نامی کی کبھی خواہش نہیں رہی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ لوگ مجھ پر لعنت ملامت کریں گے اور میری کردارکشی کی جائے گی، میں ایسی باتیں کہتا رہا ہوں جو میں سمجھتا ہوں کہ ملکی مفاد میں ضرور کہی جانی چاہییں۔ میں سمجھتا ہوں کہ گاندھی برطانوی ایجنٹ تھے جنھوں نے ہندوستان کوعظیم نقصان سے دوچار کیا۔‘‘
اپنے مؤقف کی تائید میں سابق جج درج ذیل دلائل پیش کرتے ہیں:
٭ مذہبی، لسانی، نسلی، اور فرقہ ورانہ اعتبار سے ہندوستان انتہائی متنوع ملک ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر برطانیہ نے ’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی اپنائی تھی (اس ضمن میں پروفیسر بی این پانڈے کی راجیہ سبھا میں کی گئی تقریر بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے) سیاست کو ہمیشہ مذہبی رنگ دے کر گاندھی نے برطانیہ کی اس پالیسی کو تقویت بخشی۔
اگر ہم گاندھی کی عوامی تقاریر اور تحریروں کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ 1915ء میں جنوبی افریقا سے واپسی کے بعد 1948ء میں اپنی موت تک، انھوں نے ہر تقریر اور ہر مضمون میں ہندومت کی تعلیمات و تصورات جیسے رام راجیہ، گؤرکشا، برہمچاریا، ورناشرم دھرما وغیرہ کی ترویج کی۔ 10 جنوری 1921ء کو ’’ ینگ انڈیا‘‘[ ہفت روزہ] میں لکھا،’’میں ایک سناتانی ہندو ہوں۔ میں ورناشرم دھرم اور گائے کی حفاظت پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ ان کے عوامی اجتماعات میں ہندو بھجن ’’رگھوپتی راگھو راجا رام ‘‘ بہ آواز بلند پڑھا جاتا تھا۔
بیسویں صدی کے ابتدائی نصف میں ہندوستانی زیادہ مذہبی تھے۔ اگر کوئی سادھو یا سوامی آشرم میں اپنے پیروکاروں کو ان خیالات کی تعلیم دے تو کوئی مضائقہ نہیں مگر جب ایک ہندو سیاسی لیڈر برسرعام مذہبی عقائد کی ترویج کرے تو اس کا ایک مسلمان کے ذہن پر کیا اثر پڑتا ہوگا؟ یقیناً گاندھی کی تقاریر سُن کر اور مضامین پڑھ کر وہ مسلم لیگ جیسی مسلم تنظیم کی طرف مائل ہوگا، اور ایسا ہی ہوا۔ کیا یہ طرز عمل برطانیہ کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے مفاد میں نہیں تھا؟ عشروں تک سیاست اور مذہب کو مدغم کرنے پر کمربستہ رہ کر کیا گاندھی نے معروضی طور پر ایک برطانوی ایجنٹ کا کردار ادا نہیں کیا؟
٭ ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف انقلابی تحریک بیسویں صدی کے اوائل میں انوشیلن سمیتی جیسی تنظیم اور یوگندر، سوریا سین اور رام پرساد بسمل (’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ کے لکھاری)، چندرشیکھر آزار، اشفاق اﷲ، بھگت سنگھ، راج گرو وغیرہ جیسے انقلابیوں کی قیادت میں شروع ہوچکی تھی ( واضح رہے کہ ان سب کو برطانوی سرکار نے پھانسی پر چڑھادیا تھا)۔ گاندھی نے بڑی کام یابی سے جدوجہد آزادی کا رُخ انقلابی سمت سے ’’ ستیہ گرہ‘‘ نامی بے ضرر اور بے معنی راستے کی طرف موڑ دیا۔ اس سے بھی برطانوی مفادات کو تقویت ملی۔
٭ گاندھی قدامت پسندانہ معاشی نظریات کے حامل اور ترقی کے مخالف تھے۔ انھوں نے دیہی برادریوں کی خودانحصاری پر زور دیا، حالاں کہ ہر ایک اس حقیقت سے واقف تھا کہ یہ برادریاں ذات پات کی بنیاد پر منقسم اور زمین داروں اور سُودخوروں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھیں۔ گاندھی صنعت کاری کے خلاف تھے۔ انھوں نے چرخا کاتنے جیسے ترقی مخالف اور احمقانہ طریقے اپنانے پر زور دیا۔ اسی طرح ان کا ’ گاندھی ازم‘ کا نظریہ بھی مکمل طور پر غیرعقلی اور عوام کو دھوکا دینے کے مترادف تھا۔
کچھ لوگ تقسیم کے وقت پھوٹنے والے نسلی فسادات کے سدباب کے لیے فسادزدہ علاقوں میں جانے پر گاندھی کی مدح سرائی کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے پہلے انھوں نے عشروں تک عوامی سیاسی اجتماعات میں مذہبی تعلیمات کا پرچار کرکے لوگوں کے دلوں میں آگ کیوں بھڑکائی ، جس سے ہندوستانیوں میں مذہب کی بنیاد پر تفریق پیدا ہوئی؟ پہلے تو آپ خود آگ لگواتے ہیں اور پھر بھڑکتے ہوئے شعلے بُجھانے کا ڈراما کرتے ہیں۔
اسی موضوع پر اپنی ایک اور پوسٹ میں مرکنڈے سوال کرتے ہیں کیا وہ شخص جس نے سیاست کو مذہب کے رنگ میں رنگ کر برطانیہ کے مفادات کا تحفظ کیا ہو، وہ راشٹرپتا کہلائے جانے کے قابل ہے؟ آگے چل کر وہ گاندھی کی تقاریر و مضامین سے اقتباسات نقل کرکے طنز بھرے لہجے میں تبصرہ کرتے ہیں،’’یہ وہ چند احمقانہ، جاگیردارانہ نظریات ہیں جن کے یہ ’ راشٹرپتا ‘ حامل تھے۔‘‘
مرکنڈے کاٹجو کی جانب سے مہاتما گاندھی پر تنقید اور انھیں برطانوی ایجنٹ قرار دیے جانے پر بھارت میں خاصی لے دے ہورہی ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے مرکنڈے کو آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے مگر سابق جسٹس کا کہنا ہے انھیں ناقدین کی کوئی پروا نہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مرکنڈے نے متنازع بات کی ہو۔ ان کا کیریئر ایسے ’ کارناموں‘ سے بھرا پڑا ہے۔
ساؤتھ ایشین میڈیا کمیشن کی جانب سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے 90 فی صد ہندوستانیوں کو احمق قرار دیا تھا۔ علاوہ ازیں اپنے کئی مضامین میں بھی وہ یہی بات کہہ چکے تھے۔ اس بیان کے جواب میں لکھنؤ کے دو طلبا نے انھیں قانونی نوٹس بھیجا تھا۔ اس کے جواب میں انھوں نے یہ وضاحت کی،’’میں نے یہ بات اس بنا پر کہی تھی کہ 90فی صد ہندوستانی عام انتخابات میں میرٹ کے بجائے مذہب اور ذات برادری کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں۔‘‘
مرکنڈے کاٹجو نے ملعون سلمان رشدی پر بھی تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ رشدی کو غیرضروری طور پر سراہا جاتا ہے۔
مرکنڈے، کیسوں کی سماعت کے دوران بھی متنازع بیانات دیتے رہے ہیں۔ 2007ء میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے انھوں نے ریمارکس دیے،’’قانون ہمیں اجازت نہیں دیتا بہ صورت دیگر ہم بدعنوانوں کو پھانسی کی سزا سناتے۔‘‘ ان ریمارکس پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔ کاٹجو ماتحت عدالتوں کے فیصلوں پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔
ایک کیس کی سماعت کے دوران کاٹجو اور گیان سُدھا مشرا پر مشتمل بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ ’’الہ آباد ہائی کورٹ میں کچھ گل سڑ رہا ہے جیسا کہ اس کیس سے ظاہر ہوتا ہے۔‘‘ ان ریمارکس پر الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے شدید اعتراض کیا گیا تھا مگر سپریم کورٹ نے ان ریمارکس کو قلم زد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ کہا جاتا ہے منہ پھٹ اور ’بے لگام‘ آدمی سے اس کے قریبی دوست بھی کبھی نہ کبھی برگشتہ ہوجاتے ہیں۔ مرکنڈے کے ساتھ بھی ایسا ہوچکا ہے۔
بھارت کے موجودہ وزیرخزانہ ارُن جیٹلی سابق جسٹس کے قریبی دوست ہوا کرتے تھے۔ جن دنوں مرکنڈے کاٹجو پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین تھے، ارن نے ان پر گجرات اور بہار کی غیرکانگریسی حکومتوں کو ہدف بنانے کا الزام عاید کیا۔ جیٹلی کا کہنا تھا کہ مرکنڈے ایک جج کے معیار پر پورا نہیں اترتے لہٰذا انھیں پی سی آئی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انھوں نے الزام عاید کیا کہ کاٹجو گودھرا میں سبرامتی ایکسپریس کی آتش زدگی کے واقعے کے حوالے سے، بہ طور چیئرمین پی سی آئی جانب داری سے کام لے رہے ہیں۔
جواباً کاٹجو نے ان الزامات کو رَد کرتے ہوئے سابق دوست کو سیاست سے کنارہ کش ہوجانے کا مشورہ دیا تھا۔ جولائی 2014ء میں مرکنڈے کو ایک بار پھر شہ سرخیوں میں جگہ ملی۔ اس کا سبب بلاگ پر کی گئی پوسٹ تھی جس میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ 2004ء میں ایک بدعنوان جج کو سیاسی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے مدت ملازمت میں توسیع اور مستقل تقرری دی گئی۔ مرکنڈے نے لکھا کہ انھوں نے مذکورہ جج کی تقرری پر تحفظات کااظہارکیا تھا۔
بعدازاں چیف جسٹس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات نے میرے موقف کی تصدیق کردی تھی۔ تاہم مذکورہ جج کو تامل ناڈو کی ایک سیاسی جماعت کی حمایت حاصل تھی، جس نے دھمکی دی تھی کہ اگر جج کو توسیع نہیں دی گئی تو وہ اتحادی حکومت سے علیحدہ ہوجائے گی۔ مرکنڈے کاٹجو نے الزام عائد کیا کہ اتحادی حکومت کو بچانے کے لیے اہم کانگریسی لیڈر نے جج کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے انتظامات کیے۔
سابق جسٹس کی اس بلاگ پوسٹ کے بعد متعدد سیاسی جماعتوں اور سماجی گروپوں نے ججوں کی تقرری میں سیاسی مداخلت پر تحفظات کا اظہار کیا۔  دسمبر 2014ء میں مرکنڈے کاٹجو ہندوستان کے ہم جنس پرستوں کی تنقید کا نشانہ بنے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے ہم جنسی پرستی کو ’ بکواس‘ اور ’ بے ہودہ‘ قرار دے دیا تھا۔
اپنی بات بلاخوف و خطر کہہ دینے والے مرکنڈے کاٹجو کے مدح سرا بھی موجود ہیں۔ بھارت کے سابق سالسٹر جنرل امریندرشرن کہتے ہیں،’’آپ ان کے خیالات پر تنقید کرسکتے ہیں، مگر ان کی ذات پر نہیں۔
ان کی دیانت داری غیرمشتبہ ہے۔‘‘ معروف ماہرقانون فالی نریمان، مرکنڈے کو انسانی حقوق کا بڑا علم بردار قرار دیتے ہیں۔ روزنامہ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے سابق مدیر دلیپ پڈگاؤنکر نے مرکنڈے کے بارے میں کہا تھا،’’وہ ایک ایسا شخص ہے جس کی راست بازی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔‘‘ تاہم گاندھی کو برطانیہ کا ایجنٹ قرار دینے کے تازہ ترین بیان کے بعد سابق جسٹس کی دیانت داری کا دم بھرنے والے بھی خاموش ہیں۔

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates