بلدیاتی نظام کے متبادل خاکسارتحریک کا محلہ وار نظام | قائد تحریک

Dr. Sabiha Mashriqi - 2015پچھلے 68 سالوں سے ان الیکشنوں نے قوم کو کچھ نہیں دیا لیکن اس کے برعکس اگر کسی کی تقدیر بدلی ہے تو اُس جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے سے تعلق والے گروہ کی جو مغربی طرز جمہوریت کے تابع فرسودہ طرز انتخاب کوذریعہ بناکر ۹۵ فیصد غریب عوام کو خوشحالی اور آسودہ حالی کے خواب   دکھاکر پچھلے ۶۸ سالوں سے بیوقوف بنارہا ہے۔یہ بلدیاتی الیکشن اور اس کے کوکھ سے جنم لینے والابلدیاتی نظام آنے والے دنوں میں لامحالہ اُسی فرسودہ مغربی نظام جمہوریت کا جلا بخشے گااور اِس کی جڑوں کو مزید طاقتور کرے گا تاکہ وہ جاگیردار ، سرمایہ دار اور نوکر شاہی طبقہ جن کی عیاشی کے لئے یہ ملک بناتھا اس کو مزید مستحکم ، طاقتور اور ان کے اقتدار کو مزید دوام بخشے ! اس لئے خاکسار تحریک نہ تو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے رہی ہے اور نہ ہی اس نظام کا کسی صورت حصہ بنے گی۔
خاکسار تحریک اس بلدیاتی الیکشن میں نہ تو کسی کی مخالفت کررہی اور نہ ہی کسی جماعت،گروہ یا فرد واحد کی حمایت کا ارادہ رکھتی ہے! لیکن اس کے برعکس خاموش تماشائی بھی نہیں بن سکتی   اس لئے خاکسار تحریک اس بلدیاتی نظام کامتبادل محلہ وار نظام پیش کرتی ہے جس میں پڑھی لکھی نو جوان نسل کو اپنے محلوں،علاقوں، قصبوں اور شہروں میں اپنی مدد آپ کے تحت منظم اور متحد ہوکر مسائل کو حل کرنے اور سیاسی، سماجی معاشی اور معاشرتی تبدیلی لانے کیلئے منظم کیا جا رہا ہے۔ یہ بلدیاتی الیکشن غریب کے مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ یہ اس کے مسائل میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ اس لئے ہمارا اصولی موقف یہ ہے کہ ہم اس فرسودہ الیکشن بازی کی سیاست سے جس میں ایک ہی قوم کے افراد کو آپس میں انگریز کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت ان کے گلی محلوں میں ذات برادری رنگ، نسل و قوم اور پارٹی بازی کے نام پر نفاق اور تفریق کی سیاست کو ’’جمہوریت کی خوبصورتی‘‘ کا نام دیکر ایک دوسرے سے لڑا کر کمزور کیا جا رہا ہے اِس سے   الگ رہ کر قومی اور اجتماعی سطح پر قوم کو (مفکر مشرق، دانائے عالم، نقیب فطرت اور عالم با عمل اور دین اسلام کے سچے داعی ’’حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ‘‘ کے وضع کردہ ’’محلہ وار نظام‘‘ جس میں بلاشبہ کسی بھی عامل قوم کے لئے غلبے کا سارا راز پوشیدہ ہے کو سامنے رکھتے ہوئے) ان کے گلی محلوں میں محلہ وار نظام کے تحت بنا رنگ نسل و قوم اور مذہب کی تفریق کے اخوت ، مساوات اتحاد و تنظیم، عمل پیہم، کے تحت منظم، متحد، طاقتور اور صف بند ہونے کا سبق دیں اور یہ ہی فکری بالیدگی کا عملی پروگرام خیرہ کُن نتائج پیدا کرسکتا ہے جس کو اپنا کر خدمت خلق کو قومی شعار بنا کر قومی رضاکاروں کی ایک ایسی جماعتیں تیار کریں جو حقیقی بنیادوں پر محلے محلے میں ملک کی دینی، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ غریب عوام کے روزمرہ کے سماجی معاشرتی و معاشی مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت   ملک کے گوشے گوشے سے نکل کھڑی ہوں تاکہ قومی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ بعدازاں ان ہی جماعتوں کے درمیان سے صحیح معنوں میں ملک کو ایک مخلص سچی اور ایماندار قیادت فراہم ہوسکے!

(قائد تحریک ڈاکٹر صبیحہ المشرقی)

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates