شریفوں کی منظم دہشت گردی

Farrukh Column Logoمسلم لیگ ن پوری شان و شوکت اور جاہ و جلال سے ملک پر حکومت کر رہی ہے۔ لیکن حکومتی ترقی کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق دن بدن بڑھتا جا رہاہے ۔حکومتی ایوانوں میں اگر کو ئی پلان کامیابی سے ہمکنار ہو رہاہے تو وہ یہ ہے کہ کس طرح اپوزیشن اور ان کی کارکردگی پر انگلی اٹھانے والوں کو نیچا دکھایا جا سکے۔ سیاستدانوں کی اس نو را کشتی میں نقصان صرف اور صرف عوام کا  ہو رہا ہے۔ اور سیاستدانوں کی آپس کی یہ چپقلش عوام کو دن بدن بدحالی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

ملک کا واحد پیدا واری شعبہ زراعت جو کہ پو رے ملک کو پال رہاہے اس کو ان سرمایہ دار اور ڈفر سیاستدانوں نے تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیاہے۔ نواز حکومت نے اپنے دو سالہ دور اقتدار میں کسانوں کا وہ حال کر دیا ہے کہ وہ ادھ مو ئے ہو ئے پڑے ہیں۔ ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ وہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اس حکومت نے کسانوں کی کمر تو ڑ کر رکھ دی ہے۔

چاول کی پیداوار جو کہ پچھلے سال کی بہ نسبت دگنی ہو ئی تھی لیکن گزشتہ سال کی نسبت اس سال چاول کی فی من قیمت آدھے سے بھی کم رہی  اور پیداوری لاگت زیادہ آنے  نےاس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ جن جن کسانوں نے اس دفعہ چاول کاشت کئے ہیں وہ تباہ ہو چکے ہیں۔

گنے کی فصل کی پچھلے برس کی نسبت نہ ہو نے کے برابر رہی۔ وجہ صرف یہ رہی کہ پچھلے سال کے پیسے ابھی تک شوگر مالکان نے کسانوں کو ادا نہیں کئے۔ اور آپ کو پتہ ہی ہے کہ شوگر مل مالکان ٹولہ شریفوں زرداریوں اور ترینوں پر مشتمل ہے ۔

پچھلے تین سالوں سے آلو کی کاشت کرنے والے کسان اتنا نقصاں اٹھا چکے ہیں کہ ان کو اپنے نقصانات پورا کرنے کیلئے اپنی زمینیں بیچنی پڑ رہی ہیں ۔کھادوں کے ریٹ بیجوں کے ریٹ آسمانوں کو چھو رہے ہیں اور ناقص  زرعی ادویات کی درآمد نے جلتی پر تیل کو کام کیا ہے۔

چمڑے کی صنعت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ۔ کپڑے کی صنعت کو لے لیں وہ ختم ہو نے کے کنارے پر ہے ۔ انڈیا سے امپورٹ کیا گیا دھاگہ پاکستان میں تیار دھاگے سے سستا مل رہاہے اس لئے زیادہ تر دھاگہ انڈیا سے امپورٹ کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی سپننگ کی صنعت ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔ اسی طرح سٹیل کی صنعت کو لے لیں تو اس پر چائنہ کلی طور قبضہ کر چکا ہے ۔  ملک  کی باقی انڈسٹری بھی تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔

اپنی ملکی  چیزوں کو سستا کرکے یہ سرمایہ دار انہیں سستے داموں خرید کر باہر برآمد کر رہے ہیں اور اربوں روپیہ کما رہے ہیں  اور ملک میں ان چیزوں کی پہنچ بنائے رکھنے کیلئے دوسرے ملکوں سے ان کو درآمد کر رہے ہیں ۔ جسکی وجہ سے ملک کا زرعی اور صنعتی شعبہ تباہ ہو رہا ہے جس کا فائدہ انڈیا اور چائنہ کو ہو رہا ہے۔ آلو ٹماٹر پیاز انڈیا سے دھڑا دھڑ درآمد کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ اپنے ملک کے کسان کو تباہ کیا جارہاہے ۔ چیزیں درآمد اس لئے کی جا رہی ہیں کیونکہ اس میں کمیشن بن رہا ہے اور اس ظالم حکومت کے ہر کاروں کی جیبوں میں جا رہاہے ۔یہ منظم دہشت گردی جو اپنے ہی ملک کے عوام کے ساتھ  دانستہ طور پر کی جارہی ہے اس کے خلاف کو یہ آواز اٹھانے والا نہیں۔

درآمد اور برآمد کے درمیاں بڑھتے فرق کو مٹانے کیلئے دھڑا دھڑ قرضے لئے جا رہے ہیں ۔نواز حکومت نے غیر ملکی قرضے لینے کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے ۔  قرضہ مل جاتاہے تو ملک کی سانس چلنے لگ جاتی ہیں۔ اور ان قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہر چیز پر دھڑا دھڑ ٹیکس لگائے جا رہے ہیں غریب پہلے ہی برے حال میں تھا  رہی سہی کر  ان ٹیکسوں  نے پو ری کر دی ہے ان ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ۔ لیکن حکمران ہیں کہ ان کے کان پر جو ں تک نہیں رینگ رہی ۔۔ حکومت ایسے ایسے پراجیکٹ شروع کر رہی ہے جو کہ ان کی آمدنی کا ذریعہ ہیں بیرونی کمپنیوں سے بھاری کمیشن لیکر ملک میں ایسے اسے پراجیکٹ شروع کئے جا رہے ہیں جن کا فائدہ ملک کی 2 سے 3 فی صد آبادی کو ہو گا۔ ملک کی اکثریتی آبادی جس میں کسان اور مزدور شامل ہیں ان کا کو ئی پرسان حال نہیں حالانکہ یہی طبقہ ملک کے اصل پیداواری شعبہ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ملک کے غلط اقدامات کی وجہ سے ڈالر کے ریٹ مسلسل بڑھتا جا رھا ہے ۔ ڈالر کے بڑھنے کی وجہ سے قرضوں کا بو جھ بڑھ رہاہے ۔ جس  کاسب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے ۔ جس کو روز مرہ کی ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمت بڑھا کر پورا کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔ بجلی کے بے جا بل ٹیلی فون صارف پر نئے نئے ٹیکس اور پٹرول کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو نے باوجود مہنگے داموں اس کی فروخت کی وجہ سے ملک کا اکثریتی طبقہ اس سے براہ راست متاثر ہو رہاہے اور مسلسل ایک عذاب میں مبتلا ہے۔

حکومتی دعووں کا یہ بلبلہ جب  پھٹے کا تو وہاں کچھ بھی نہیں ہو گا ۔ملک قرضوں کے بو جھ تلے بے انتہا دب چکا  ہو گا  ۔ اور نئی آنے والی حکومت کو مجبو راً مزید قرضے لینے پڑیں گے  اوریہ سلسلہ  دراز ہو تا چلے جائے. حکومت کے ملک کی توانائی کے شعبوں میں کئے جانے والوں دعووں کی قلعی آہستہ آہستہ کھلتی  چلی جا رہی ہے ۔ نندی پو ر پراجیکٹ ، بہاولپور کا سولر پراجیکٹ اس کی واضح مثالیں ہیں۔

ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کو سوائے کرسی تک پہنچے کے اور کچھ سجھائی نہیں دے رہا ۔ ان میں سے کو ئی بھی اس مہنگائی اور غریب آدمی  کے   منظم استحصال کے خلاف تحریک نہیں چلا رہا ۔ تحریک انصاف جو تبدیلی کا نعرہ لیکر میدا ن  میں آئی تھی اور عام آدمی نے اس سے اپنی امیدیں وابستہ کر لی تھیں  لیکن وہ بھی اب بری  طرح ان سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے چنگل میں پھنس کر الیکشن بازی کے کھیل کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ چکی ہے ۔ سیاسی جو ڑ تو ڑ اور اسمبلیوں تک پہنچنے کیلئے وہ بھی اسی دوڑ میں شامل  ہو چکی ہے  جسکی وجہ سے عام طبقہ انتہائی مایوسی کے عالم میں مبتلا  ہو چکا ہے  اور اس نے بھی اپنے آپ کو اسی    بہاؤ میں بہنے کیلئے چھوڑ دیا ہے ۔ ملک کا با شعور طبقہ اس وقت سب سے زیادہ اذیت میں ہے کہ کیا کیا جائے اور اس  منظم دہشت گردی کو جو اِن لٹیرے حکمرانوں نے  شروع کر رکھی ہے سے کس طرح نجات حاصل کی جائے ؟

عوام نے اب دوبارہ فوج سے توقع لگانی شروع کر دی ہے کہ وہ آئے اور ملک کی باگ ڈور سنبھالے اور ملک کو مشکلوں اور بحرانوں سے نکالے ۔ چیف آف آرمی سٹاف کی حکومت کو دبے لفظوں میں وارننگ بھی انہی حالات  کا نتیجہ لگ رہی ہے ۔ ایسا لگ رہاہے کہ فوج ابھی اس سیاست سے دور رہ کر اپنے فرائض ادا کر نا چاہ رہی ہے لیکن عوامی پریشر اسے اس با ت پر مجبور کر رہا ہے  وہ آ کر ملک کی باگ ڈور سمبھالے۔ اگر فوج آتی ہے تو یہ ملک کیلئے اچھا نہیں ہو گا ۔ حکومت کے مخلتف شعبوں کو اپنی اپنی حدود میں ہی رہ کر کام کرنا چاہئیے  اس لئے سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ  ہو ش کے ناخن لیں اور حالت کو سمجھیں اور  رعیت کو ریلیف دینے کے اسباب پیدا کریں ۔ لیکن لگتا ہے کہ  حکمران رادہ کر چکے ہیں کہ انھوں نے صرف ملک کو لو ٹنا ہے ۔اور اپنے ہاتھوں اپنی موت کا سامان کرنا ہے ۔ اگر یہی حال رہا تو آنے والے چند مہینوں میں عوام برملا فوج کو حکومت میں ا نے کی دعوت دینے لگے گی ۔فوج پہلے بھی عوامی انقلابوں کو  حکومت میں آ کر روکتی رہی ہے ۔ اور ان نا سمجھ حکمرانوں کو بچاتی رہی ہے ۔ لیکن  فوج بھی کب تک ان کو بچائے گی ۔ جیسے جیسے پاکستانی نسل میں شعور بڑھتا گیا ویسے ویسے ان مہذب دہشت گردوں کا  جینا مشکل ہوتا جائے گا ۔

اللہ میری ملک اور قوم کا حامی و ناصر ہو

 

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates