آزادیٔ کشمیر کیلئے علامہّ عنایت اللّہ خان المشرقی ؒ کی لازوال جدو جدوجہد!

Allama Mashriqi Arrested on Dr. Khan's Murder Case(تاریخ کا ایک پوشیدہ باب ) اقتباسات
ازقلم:۔عبدالقدیر رشک (ایک غیر خاکسار ) صحافی کی یاد داشتیں!
بعنوان: ڈاکٹر خاں صاحب قتل کیس۔ پاکستان کے دوسرے سیاسی اور تاریخی قتل کیس کی اندرونی کہانی پہلی بار سنائی جارہی ہے!
(بحوالہ : سیارہ ڈائجسٹ شمارہ مارچ۱۹۸۴)

خان لیاقت علی خان کے سیاسی قتل کے ٹھیک چھ سال بعد پاکستان کے دوسرے سیا ستدان اور صوبہ سرحد کے کے سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر خانصاحب زندگی کی  بازی ہار بیٹھے۔ جب لاہور کی ایکیمن روڈ پر ڈاکٹر خانصاحب کے قتل کا درد ناک واقعہ رونما ہوا تو میں لاہور کے ایک انگریزی روزنامہ کا وقاع نگار ِخاص تھا۔ قتل کے واقعہ کے روز میں اپنے مکان واقع ۱۳۱۔ سرور روڈ لاہور چھاونی پر لمبی تان کرسویا ہوا تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی ٹیلی فون پر اے پی پی کے بٹالوی صاحب مجھ سے ہم کلام تھے۔ انکی زبانی معلوم ہوا کی ڈاکٹرخانصاحب جو اPن دنوں پاکستان  ری پبلیکن  پارٹی کے سربراہ تھے۔کسی گم نام قاتل کے ہاتھو ں قتل ہوگئے ہیں۔
میری چھٹی مسافتی حَس بتاتی تھی کہ ایک ممتاز سیاسی شخصیت کاقتل کوئی تعجب انگیز رخ ضرور اختیار کرے گا۔ملک کو جس نوعیت کے حالات در پیش تھے ۔انکا تقاضا تھا کہ اس قتل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جائے۔اگر حکومت کا طرز ِ عمل یہی ہو تو پولیس اپنی جگہ مجبور ہوتی ہے اور بالآخرقتل کی کہانی تک تبدیل کردی جاتی ہے۔
ڈاکٹر خانصاحب کے قتل سے صرف ایک ماہ قبل لاہور میں بعض عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے جن کا تعلق  خاکسار قیادت اور خاکسار تحریک سے تھا، جب سے پاکستان  آزاد ہوا ہےبر ِصغیر کی سب سے بڑی مسلم ریاست جموں و کشمیر بھارت اور پاکستان کے مابین متنازعہ رہی ہے۔ یہ ریاست تہذیبی، ثقافتی، اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا قدرتی جزو ہے۔ ایک موقع پر بھارت نے اقوام ِ متحدہ کے ذریعے کشمیر کے نوے لاکھ عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا تھا۔ لیکن استصواب کی نوبت آنے سے پہلے بھارت اپنے بین الاقوامی وعدے سے منحرف ہوگیا۔
برصغیر کے دو سیاسی لیڈر چودہری غلام عباس  اور علامہّ عنایت اللہ خان المشرقی چاہتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ بلا تاخیر حل کیا جائے۔ اگر بھارت اس معاملے میں مجرم ضمیری کا ثبوت دے تو پاکستان اور آزاد کشمیر کے حریت پسند غیر قدرتی اور غیر آئینی سرحد، جو بھارتی جارحیت کے نتیجے میں معرض ِ وجود میں آئی تھی، اسے عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائیں۔ چودہری غلام عباس کو اس مقصد کیلئے بڑی سختیاں اٹھانی پڑیں۔ لیکن ڈاکٹر خانصاحب قتل کیس سے صرف ایک ماہ قبل علامہّ عنایت اللہ خان مشرقی نے اعلان کیا کہ جو سیاسی فریضہ چودھری غلام عباس  ادا نہ کرسکے وہ خاکسار ادا کریں گے۔ علامہ ّ صاحب نظریاتی موقف کے  لحاظ سے بڑے سخت آدمی تھے۔ وہ ہر چیز ترک  کردیتے تھے، لیکن اپنا نصب العین ترک نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے خاکساروں کو حکم دیا کہ وہ پاکستان میں واقع مقبوضہ کشمیر کی سرحدپر کیمپ لگائیں اور جونہی  انکے لیڈر  اشارہ کریں وہ تمام مصلحتون کو نظر انداز کرکے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائیں چنانچہ خاکساروں نے تمام تر پیش بندیوں کے باوجود سرحدوں پر کیمپ قائم کرلئے۔
جس سال یہ واقعات رو نما ہوئے سکندر مرزا پاکستان کے صدر تھے۔انکے ڈرامائی تنزل کے موقع پر یہ بات واضح ہوئی کہ وہ برطانیہ کے آدمی تھے۔ وہ ہر اس مصلحت کو مقدم سمجھتے تھے جسے برطانیہ پسند کرتا تھا۔ کانگریس، لارڈ مائونٹ بیٹن اور دیگر انگریز حکمرانوں کا گٹھ جوڑ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
سابق  وزیراعظم چودھری محمد علی، ملک فیروز خان نون اور بیگم جہاں آراء شاہنواز نے اپنی خود نوشتہ کتابوں میں اعتراف کیا ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی مصلحتیں کشمیر میں ہر وقت ملٹری ایکشن میں مانع رہیں۔ بالآخر بھارت نے اس صورت ِ حال سے فائدہ اٹھایا بھارتی فوج نے انگریزوں سے در پردہ سازش کرکے ریاست جموں و کشمیر کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ اس تاریخی پس منظر کی روشنی میں جب سکندر مرزا کو خاکسار تحریک کے فیصلے کا علم ہوا تو سخت پریشان ہوئے۔ اس مسئلے کا ایک غیر آئینی حل یہ تھا کہ خاکسار تحریک کی قیادت کو غیر معینہ عرصے تک تشویش انگیز اور رسواکن مسئلے میں الجھا دیا جائے۔ چنانچہ ایک نئی سازش کا ڈول ڈالا گیا۔خاکسار لیڈر علّامہ عنایت اللہ المشرقی سرحدی خلاف ورزی اور تعزیرات ِ پاکستان کی دیگر دفعات کے تحت گرفتار کرلئے گئے۔ انکی گرفتاری سے قبل چودہری غلام عباس بھی اس الزام میں گرفتارہوئے تھے۔لیکن انکی پشت پر کوئی بڑی تحریک کار فرما نہ تھی، لہذا حکومت نے انکے خلاف سخت کاروائی سے گریز کیا۔ لیکن علاّمہ عنایت اللہ خان المشرقی ملک کے پرانے آزمودہ سپاہی تھے۔ انکے خاکسار مسلمانوں کے بہترین مفاد کیلئے سب کچھ کرسکتے تھے۔
ڈاکٹرصاحب کے قتل کے اگلے روز جب لاہور کے عوام شاہراہِ قائد اعظم پر شام کو سیر کو نکلے تو ایوننگ ٹائمز کے علاوہ روزنامہ نوائے وقت ، پاکستان ٹائمز اور کوہستان  کے ضمیمے بک رہے تھے،جن کی سرخیاں اسطرح تھیں کہ، علاّمہ مشرقی اور انکے ساتھی ڈاکٹر خان صاحب قتل کیس میں گرفتار کرلئے گئے۔۔۔ڈاکٹر خانصاحب کے قاتل کے سنسی خیز انکشافات۔
زندہ دلاںِ لاہور جن کی جہاں دیدہ آ نکھوں نے کئی تحریکوں کا رنگ ڈھنگ دیکھا ہے۔ اخبارات کی سرخیاں پڑھ کرحیران  رہ گئے۔ لاہور کا کوئی شہری تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ علاّمہ عنایت اللہ خان المشرقی جیسی شخصیت قتل جیسے سنگین جُرم میں گرفتار کرلی جائے گی اور آزادی کی شاندار تاریخ اپنا سر پیٹ کر رہ جائیگی۔جس نے علاّمہ صاحب کی قیادت میں عوام کو آزادی کی طرف بڑھتے اور اُبھارتے دیکھا تھا، لیکن یہ سب کچھ خواب نہیں ایک تلخ حقیقت تھی ۔برصغیرکی خاکسار تحریک کے قائد اور بانی ڈاکٹر خانصاحب قتل کیس میں ملوث ہوچکے تھے۔۔۔قتل کے جن مقدمات میں موقع کا کوئی عینی شاہد موجودنہ ہو تو پولیس ملزموں  میں سے کسی ایک ملزم کو وعدہ معاف گواہ بنالیتی ہے، جو قانون کی زبان میں سلطانی گواہ کہلاتاہے۔۔۔۔۔۔ ان حالات میں سلطانی گواہ کا ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ پولیس نے ایک معروف خاکسار اور ڈاکٹر خانصاحب قتل کیس میں ملوث خاکسار خورشید خالد کو سلطانی گواہ بنایا۔ جیل کے اندر اس سے اقبالی جرم لکھوایا گیا۔ جس میں اس نام نہاد سازش کا انکشاف کیا گیا جو ڈاکٹر خان صاحب کے مبینہ قتل کے سلسلے میں کی گئی۔  پولیس کا خیال تھا کہ جب خاکسار تحریک کا اپنا کارکن بحیثیت سلطانی گواہ قتل کے متعلق اہم اور سنسنی خیز انکشاف کرے گاتو دنیا حیران و ششدر رہ جائے گی۔
علاّمہ عنایت اللہ خان المشرقی نے خاکساروں میں ڈسپلن اور امیر کی اطاعت کا ایسا جذبہ پیدا کیا تھاجو اپنی مثال آپ تھا۔ ان تاریخی حقائق  کی روشنی میں پولیس کا یہ اعلان بڑا تعجب انگیز تھا کہ علاّمہ صاحب کا اپنا آزمودہ کارکن، اپنے امیر کے خلاف لب کشائی کرے گا۔ سلطانی گواہ اپنے لیڈر کو قتل سازش کا اہم پُرزہ قرار دے گا۔ استغاثہ کی طرف سے ایک سینئر سرکاری وکیل خان مشتاق احمد خان اور علاّمہ عنایت اللہ خان مشرقی کی طرف سے اعجاز بٹالوی بطور وکیل پیش ہوئے۔ جب ڈاکٹر خان صاحب قتل کا مقدمہ سیشن کورٹ میں پیش ہوا تو پاکستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس انوار الحق لاہور کے سیشن جج تھے۔ لاہور سینٹرل جیل پنجاب کی تاریخی عمارت تھی ایک کمرہ تو خاص طور پر تاریخی اہمیت رکھتا تھا۔ یہی وہ کمرہ تھا جہاں سردار بھگت سنگھ اور انکے ساتھی کو سزائے موت کا فیصلہ سنایاگیا تھا۔
علاّمہ عنایت اللہ خان المشرقی کے مقدمہ کیلئے لاہور سینٹرل جیل کے اسی کمرے کو دوبارہ آباد کیا گیا۔ غم اس بات کا تھا، اس کمرے کی پرانی روایت بڑی خون آشام تھی۔ یہ برصغیر کا ایک دلچسپ مقدمہ تھا۔ ایک سیاسی پارٹی، پاکستان ری پبلیکن پارٹی کا سربراہ قتل ہوچکا تھا، پاکستان کی دوسری سیاسی پارٹی، خاکسار تحریک کے لیڈر اور بانی  علاّمہ عنایت اللہ خان المشرقی قتل کے الزام میں گرفتار ہوچکے تھے۔ پاکستان کی تیسری سیاسی پارٹی ،جماعت  ِاسلامی کے امیر ابوالاعلٰی مودودی شہادت کیلئے عدالت میں طلب کئے گئے تھے۔ بیک وقت پاکستان کی تین سیاسی جماعتیں عدالت میں کھڑی تھیں۔ ایسے واقعات تاریخ میں کم ہوئے ہیں۔
صبح کے تقریباّ نو بجے لاہور سینٹرل جیل کا آہنی پھاٹک کھلا پولیس کی پوری گارڈ جو رائفلوں کے علاوہ سنگینوں سے مسلح تھی۔ سلطانی گواہ کے ساتھ لیکر قدم قدم آگے بڑھ رہی تھی جیسے اس پر اچانک حملہ ہونے والا ہو، ایس پی رندھاوا دستے سے آگے چل رہے تھے۔ انکے پیچھے پولیس انسپکٹروں اور سب انسپکٹروں کی فوج ظفر موج رواں تھی۔ میں نے اپنی صحافتی زندگی میں کئی مقدمات کی روداد سنی اور قلم بند کی لیکن وہ  سناٹا زندگی میں کبھی نہیں دیکھا جو اس سلطانی گواہ کی آمد اور بیان شروع ہونے کے موقع پر یہاں چھایا ہوا تھا!
جب ابتدائی کاروائی مکمل ہوگئی تو فاضل جج نے سلطانی گواہ کو قسم اُٹھاکر حلفیہ بیان دینے کا حکم دیا یہ لمحہ عدالت، پولیس، اور قومی پریس کیلئے بڑا نازک تھا ۔۔۔۔۔۔ پولیس  والے بڑی بےچینی کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ سلطانی گواہ سے وہ سب کچھ کہلوانا چاہتے تھے جسکا چرچا کیا  جارہا تھا۔
آخر سلطانی گواہ نے جرائت مندی سے پہلے علاّمہ صاحب پھر قومی پریس کی طرف دیکھا۔ٰ۔اس نے پوری طاقت سے سلیوٹ مارا اور اُس کی آواز کمرہ عدالت میں گونجی میرے امیر!  اور قومی پریس! کو میرا سلام پہنچے۔
اس آواز کے ساتھ ہی  اخبار نویسوں کی انگلیاں حرکت میں آگئیں۔ خورشید خالد نے حلف لینے کے بعد تشدد کے وہ طریقے بیان کیے جو اس سے بیان دلانے کے لئے برتے گئے تھے۔ انہوں نے علاّمہ صاحب پر کئے گئے تشدد کے جو واقعات بیان کئے انہیں سُن کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
جب سلطانی گواہ کے بیان میں حیرت انگیز روانی آئی تو پولیس کے تمام بڑے افسر کمرۂ عدالت سے  باہر نکل گئے۔سرکاری وکیل خان مشتاق احمدخان سرکاری وکیل ہونے کے باوجود بڑے دردمند انسان تھے وہ اپنی کرسی پر پتھر کی مورت بنے سلطانی گواہ کا بیان سُن رہے تھے۔ کمرۂ عدالت میں ہر شخص حیراط و ششدر تھا۔، ہر چیز دم بخود تھی۔ بیان کے دوران ذرا سا التوا ء ہوا تو باہر سے اطلاع آئی کہ پولیس سلطانی گواہ خورشید خالد کی بوڑھی ماں کو جو اپنے بیٹے سے ملاقات کرنے آئی تھی ایک موٹر کار میں ڈال کر لے گئی ہے۔ ایک اخبار نویس نے اُس کار کا نمبر نوٹ کرلیا تھا۔ سلطانی گواہ کی شہادت سے معاً بعد فاضل جج نے قریباً ایک گھنٹے کے وقفہ سے فیصلہ صادر کردیا انہوں نے با آواز بلند کہا؛

’’علامہ صاحب کی ہتھکڑی کھول دی جائے۔ استغاثہ اُنکے خلاف قتل کا مجرم ثابت نہ کر سکا البتہ ملزم عطا محمد کو تعزیرات ِ پاکستان کی دفعہ ۳۰۲ کے تحت سزائے موت دی جاتی ہے‘‘

جب پولیس نے برصغیر کے نامور سیاستدان کی ہتھکڑی کھولی تو ہم بھاگ کر اُنکے قریب پہنچے علاّمہ صاحب نے بڑی پامردی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا تھا پولیس کا تشدد اُن کے عزم کو شکست نہ دے سکا لیکن جب سیشن کورٹ کا فیصلہ صادر ہوا تو اخبار نویسوں نے زندگی میں پہلی بار اُن کے چہرے پر بڑھاپے اور نقاہت کے آثار دیکھے۔ انسان آخر انسان ہوتا ہے چاہے وہ عزم کا پہاڑ ہی کیوں نہ ہو۔
علاّمہ مشرقی میرے کندھے کا سہارا لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے قومی پریس اور خورشید خالد کو بزرگانہ دعا سے نوازا اور کہا کہ ’’میں زندگی کی آخری منزل پر پہنچنے والا ہوں۔ سفر بڑا کٹھن اور طویل تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی رضا سے کٹ گیا ۔جو کچھ ہوا میری آنکھوں کو ااُس کا یقین نہیں آتا۔‘‘
میں نے اشک آلودہ نگاہوں سے علاّمہ مشرقی کی طرف دیکھا اور میرے غیر صفاحتی دل نے سوال پوچھا  ’’علامہ صاحب !آپ کی منزل ْقریب آگئی،لیکن اس ملک کا کیا بنے گا؟ جو لاتعداد قربانیوں سے معرض وجود میں آیا لیکن یہ ملک آج محلاتی سازشوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں علاّمہ صاحب کی آنکھیں بھی نم آلود ہوگئیں‘‘

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates