کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ قاسم الکریم متعمد خصوصی قائد خاکسارتحریک

Khaksar Tehreek Gujranwala گوجرانوالہ (پ ۔ ر) کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بھارت کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر کشمیر پر اپنا غیر قانونی تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اپنے مظلوم محکموم کشمیریوں بھائیوں کی آزادی تک ان کی اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی شخصیت سیدگلزار حسین شاہ نے خاکسار تحریک گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سٹار ٹریولز کے عوامی ہال میں منعقدہ خصوصی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت خاکسار تحریک کی قائدکے معتمد خاص قاسم الکریم، خاکسار تحریک کے مرکزی راہنما خالد الکریم، خاکساران گوجرانوالہ حافظ جاوید اقبال، طارق محمود مغل، معززین شعیب عبدالرحمن، محمد یاسین شاہ  نے بھی یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صدارتی تقریر میں قاسم الکریم نے کہا کہ کشمیر جغروافیائی لحاظ سے پاکستان کا حصہ ہے۔ وقت دور نہیں جب کشمیر آزادی کی جنگ میں کامیاب و کامران ہو گا اور بھارت اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔
قاسم الکریم نے مزید کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اہمیت نہ دیکر اس کی حیثیت کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ دنیا پر اس کی اوقات واضح کردی ہے۔ اقوام متحدہ عراق، افغانستان، لبنان، فلسطین اور کشمیر سمیت کئی مظلوم اور غلام ملکوں کو آزادی دلوانے میں قطعی طورپر ناکام رہا ہے۔ اب اس کا وجود اقوام عالم کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کے معاملہ میں چشم پوشی کا رویہ اپنائے رکھے گا تب تک جنوبی ایشیاء کا امن خطرے میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو متحدو منظم ہوکر کشمیر فلسطین، عراق، افغانستان، پاکستان اور افریقی مسلم ممالک کے شہریوں محفوظ مستقبل مہیا کرنا ہوگاامت مسلمہ قرآن حکیم اور پیغمبرِ اسلام رحمت العالمینﷺ کےخلاف نفرت اور عناد کی آگ بجھانی ہوگی اپنی الگ اقوام متحدہ تشکیل دے کرتجارت، کرنسی اور دفاعی پالیسی ایک کرنی پڑے گی ورنہ اللہ کا قانون اٹل ہے کہ جو نااہل قومیں اپنا تشخص کھودیتی ہیں ان کا وجود ازروئے قرآن مٹادیا جاتاہے۔
معتمد خصوصی قاسم الکریم نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ نے 2013ء کو عالمی سال برائے آبی تعاون قرار دیا تھا مگر آبی تعاون کے عالمی سال کے دوران بھی کشمیر پر بھارت کی بالادستی کی وجہ سے بھارتی آبی جارحیت میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بھارت دریائے چناب اور جہلم کا 80 فیصد اور دریائے سندھ کا 65 فیصد پانی غیرقانونی طور پر تعمیر کئے گئے بڑے بڑے ڈیموں اور رابطہ نہروں کے ذریعے لداخ، بنگلور اور راجستھان تک بنجر زمینیں آباد کرنے کیلئے اپنے استعمال میں لارہا ہے اور 2014ء کے آخر تک  ان دریاں کا کم و بیش 85 فیصد پانی بھارت شمال سے جنوبی کی طرف موڑدیا گیا ہے۔ یہی بھارت اور یہودی لابی کا اصل ٹارگٹ ہے اور اسی وجہ سے بھارت کشمیر پر اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہے۔ دریائے سندھ پر  نیم وبازگوہ ہائیڈل پاور پروجیکٹ اور چوٹک بیراج کی تعمیرتقریباً مکمل ہوچکی ہے۔
قاسم الکریم صاحب نے واشگاف الفاظ مزید کہاکہ حضرت علامہ المشرقی ؒ کی ۱۹۵۰ء کے عشرے کی وہ تقاریر آج بھی آن ریکارڈ ہیں جسے میں انھوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اورکشمیر کو بزور شمشیر حاصل کرنے کی بات کی تھا اور کہاتھا کہ اگر کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں چلاگیا تو قیامت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اسوقت حکومت پاکستان کو متنہہ کیا تھا کہ بھارت ۱۹۶ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے پاکستان کے دریاؤں کے رخ موڑنے جارہا ہے تو اُس مرد قلندر کو اُس وقت کی حکومت نے بنا کیس چلائے ڈیرھ سال میانوالی جیل میں بند کردیا آج بھی خاکسارتحریک حکومت وقت متنبہ کرتی ہے کہ بھار ت دریائے سندھ پر کارگل کے مقام  پر ۵ ڈیم بنارہا ہے۔ یہ اس قدر بڑے ڈیم ہیں کہ ان کی تکمیل کے بعد بھارت دریائے سندھ کا سارا پانی اپنی حدود میں روک سکتا ہے اور ان سب ڈیمزکے گیٹ بند کر دینے سے پاکستان کی طرف ایک گھونٹ پانی بھی نہیں آئے گا۔ پہلے ہی بھارت دریائے سندھ پر 14 چھوٹے ڈیم مکمل کر چکا ہے اسی طرح کارگل سے 20 کلومیٹر اوپر دریائے سندھ کا رخ موڑ کر 16 دریاؤں کیساتھ لنک کیا جارہا ہے، اس عظیم منصوبے پر ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں، ہمالیائی اور انڈس دریاؤں کو باہم جوڑنے کیلئے 17500 کلومیٹر رابطہ نہریں نکالنے کا منصوبہ بھی اس میں شامل ہے حالانکہ سندھ طاس معاہدہ کے آرٹیکل (3) (4) اور (7) کی رو سے بھارت مغربی دریاؤں چناب، جہلم اور سندھ پر کسی قسم کا کوئی سٹوریج ڈیم ہرگز تعمیر نہیں کر سکتا اور نہ ہی دریاؤں کا رخ موڑ سکتا ہے۔ کشمیر کی آزادی صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی زندگی اور موت کا سوال کیونکہ اگر کشمیر پر بھارت کا تسلط قائم رہتا ہے تو پاکستان پانی کے ایک ایک گھونٹ کو ترس جائے گا اور آنے والے سالوں میں جو قحط سالی کی صورت ان بھارتی منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعدپیدا ہونے والی ہے وہ صورت ِحال قحط سالی کے روپ میں ایتھوپیا اور صومالیا سے بھی بدتر صورت اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی آبی جارحیت کے منصوبوں اور سندھ طاس منصوبے کی کھلی خلاف ورزیوں کیخلاف عالمی ثالثی عدالت میں جانے میں تاخیر کی ہے۔ اب کی بار بھی بھارت کی نئی آبی جارحیت کا معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں نہیں لے جایا گیا تو سنہء ۲۰۱۶ء کے آخر تک پاکستان کے تمام دریاؤں میں پانی نایاب ہوجائے گے اور پاکستان کے دریاؤں میں ریت اڑا کرے گی۔

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates