اصلاح فرد واحد ہی پیدا کرسکتا ہے – علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ

allama mashriqi 00122بانئ تحریک ’’قول فیصل‘‘میں راقمطراز ہیں کہ ’’گری ہوئی قوموں میں جہاں انجمنوں اور عہداروں کی کثرت سے کسی اصلاح کاپیدا ہونا محال ہے اصلاح کے خیال سے اُن میں جمہوریت یا اکثریت کے تخیل کو رائج کرنا بھی انتہائی طور پر مُضر ہے۔ اصلاح قوم کا خیال ہی لامحالہ اس امر کی دلیل ہے کہ قوم میں بحیثیت مجموعی چند در چند خرابیاں ہیں جن سے قوم کے اکثر افراد مطمئن ہیں اور وہ از خود ان خرابیوں کو دور نہیں کر سکے۔ ایسی حالت میں جمہوری طاقت کے ذریعے سے جمہور کی اصلاح ممکن سمجھنا خیال خام ہے۔ جمہور کی کسی مجلس کا عوام الناس کے میلانِ طبع کے خلاف مقابلے کے لئے کھڑا ہو جانا ناممکن ہے، وہ عوام کے بالمقابل کوئی بڑی انقلابی تجویز چلا نہیں سکتی، اس کے ارکان چونکہ جمہور میں سے منتخب شدہ ہیں اس لئے وہ اصلاح کے تخیل کو عوام الناس سے علیحدہ ہوکر وضع نہیں کر سکتے ، وہ جو اصلاح پیدا کریں گے عوام الناس سے ڈر کر کریں گے۔ بلکہ در حقیقت کوئی اصلاح پیدا ہی نہ کر سکیں گے۔ اصلاح اور انقلاب کے لئے ضروری ہے کہ ایک فرد واحد تمام قوم کے بالمقابل ڈٹ کر کھڑا ہوجائے، قوم چیختی رہے لیکن اس کے ناکارہ نقصان دہ زخموں پر جراحی عمل کرتا جائے، بیکار اعضا کو جو قوم کی نشوونما کو روک رہے ہیں، بے دھڑک کاٹ کر پھینک دے، سب دنیا مخالف ہوجائے لیکن وہ اپنی جگہ پر ڈٹا رہے، مخالفوں سے بے پرواہ ہوکر اپنا کام کرے مخالف پر مُسکرائے، بے درد ہوکر قوم کا علاج کرے ،بے توجہی سے عوام الناس کی چیخ و پکار سنے! یہی وہ وجہ ہے کہ دنیا کی تمام تاریخ اصلاح و انقلاب میں جب کبھی کسی قوم کو عروج حاصل ہوا ہے فرد واحد کے ذریعے سے ہوا ہے۔ فرد واحد اپنی ضمیر کی آواز کا پابند ہے، دماغ، جگر اس کے رہنما ہر دم ہیں، نتائج کا انتظار اس کو مضطرب رکھتا ہے۔ اس لئے اس کا ہر عمل منزل کی طرف ایک قدم ہے، انجمنوں اور مجلسوں میں ضمیر، دماغ، دل جگر، اضطراب کچھ نہیں ہوتے کثرت رائے اور اکثریت کا پاس ان کو سیلاب کی طرح جدھر مقدر ہو بہا لے جاتے ہیں اور طرفہ یہ کہ مجلسوں میں فرداً فرداً ذمہ دار افراد کی کثرت ہونے کے باوجود ان کی اکثریت کے کسی فعل میں ذمہ داری کا احساس موجود نہیں اصلاح انقلاب صرف ذمہ دار فرد واحد پیدا کرسکتا ہے اور آج چونکہ دنیا کی ہر ترقی اور عروج دراصل اصلاح اور انقلاب ہی کی ایک صورت ہے، یورپ کی اکثر جمہوری اور دستوری حکومتیں آہستہ آہستہ اس طرف مائل ہو رہی ہیں کہ عام ترقی اور عروج کے لئے بھی دستوری حکومت کے بجائے ڈکٹیٹر شپ یعنی مختار ناطق کی حکومت ہی زیادہ موزوں ہے۔ یورپ آج پھر کئی صدیوں کے بعد سمجھ رہا ہے کہ چونکہ خدا زمین و آسمان میں مختار ناطق ہے اور کسی شریک کو گوارا نہیں کرسکتا اس لئے واحد فرد واحد کی حکومت ہی تقاضائے فطرت ہے۔‘‘

(قول فیصل – دسواں باب، صفحہ نمبر: 84 تا 85)

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates