قائد تحریک سے متعلق حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ کی تصنیف”قولِ فیصل”سے اقتباس!

یہ چند اقتباسات ہیں جوکہ بانی تحریک کی تصنیف "قول ِ فیصل” سے لئے گئے ہیں جو کہ 27 اگست 2016ء کے سالانہ اجتماع میں "قول فیصل” سے پڑھ کر خاکساران پاکستان کو سنائے گئے تھے۔ ان اقتباسات میں تحریک کا سارا نظام پنہاں ہے کہ خاکسارتحریک کی بنا کس نہج پر ہے اس میں "اختیار ناطق”یعنی ڈکٹیٹر شپ کیونکر رکھی گئی ہے سالار محلہ سے لیکر قائد تحریک سب کے سب ایک نظام کے تابع کیوں ہیں ان اقتباسات میں مجلس شوریٰ ادارہ علیہ کی تعریف، قائد تحریک کے اختیارات ، ذمہ داریاں اور اپنے بعد قائد کا چناؤ کسی طرح ہوسکتا ہے واضح الفاظ میں لکھا ہے ۔
ادارہ علیّہ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے؛
"ادارہ علیّہ بانی تحریک کی پیدا کردہ اقتدار کی رسمی صورت ہے اور تمام احکام اور اختیارات کا سرچشمہ ہے اس میں قائد تحریک کے سواکوئی دوسرا شخص شامل نہیں” (قول فیصل ، صفحہ 89)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ادارہ علیّہ میں قائد تحریک کے علاوہ کوئی دوسرا شخص شامل نہیں ادارہ علیّہ جس میں قائد تحریک خود تن تنہا موجود ہےوہ خود بطور ادارہ علیّہ خاکسارتحریک کے سارے نظام کو کنٹرول کرتاہے۔میری ناقص رائے کے مطابق ادارہ علیّہ کو قائم کرنے کا اول تا آخر مقصد انگریز حکومت کو باور کرانا تھا کہ خاکسارتحریک کا سارا نظام ایک ادارہ کے ماتحت ہے ۔ لیکن اس ادارہ کا تمام اختیار بانی تحریک نے قائد تحریک کودے رکھا تھا تاکہ اختیار ناطق کے تابع کھڑا کیا گیا نظام اپنی افادیت قائم رکھے۔اور اسی اختیار ناطق کے تابع نظام نے چشم زدن میں خاکسارتحریک کو ہندوستان گیر کردیاچونکہ خاکسارتحریک نیم عسکری جماعت تھی اور اس کا نظام کسی سیاسی پارٹی کے نظام کے طرز پر نہیں تھا اس لئے اس کو اختیار ناطق کے تحت چلایا گیا جوکہ اس کی کامیابی کا سبب بن گیا۔آج بھی خاکسارتحریک کو اس کے اصل نظا م کے تحت چلایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ خاکسارتحریک اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو بحال نہ کرسکے!
مجلس شوریٰ کے بارے میں لکھا ہے کہ;
"بانی تحریک یا قائد تحریک کی مجلس شوریٰ جو غالباً تحریک کے سب بڑے افسروں پر مشتمل ہوسکتی ہے ادارہ علیّہ ہندیہ سے علیحدہ شے ہےاگر چہ اُس کے مشورے میں شامل ہے ادارہ علیّہ حسبِ ضرورت مجلس شوریٰ سے بے نیاز ہوکر احکام جاری کرسکتا ہے۔”(قول فیصل ، صفحہ 89)
"قول فیصل "ان سطور سے دو باتیں یکساں طور پر عیاں ہیں کہ بانی تحریک ہو یا قائد تحریک اس کی کوئی باقاعدہ ِ مجلس شوریٰ تحریک کے نظام کا حصہ نہیں لیکن تحریک اگر حرکت اور عمل میں ہے تو اس کے وہ بالاافسران جو کہ عملی طور پر تحریک کا حصہ ہیں اور فیلڈمیں کام کررہے ہیں ان سے قائدتحریک کسی بھی اہم معاملے پر مشور ہ لے سکتا ہے کیونکہ وہ افسران پہلے سے اپنے عہدوں پر کام کررہے ہوتے ہیں تو وہ مزید کسی شوریٰ کے تحت عہدوں کے متحمل نہیں ہوسکتےمزید یہ کہ وہ مجلس شوریٰ جس کے بارے میں لکھا ہے کہ تحریک کے بڑے افسروں پر مشتمل ہوسکتی ہے ادارہ علیّہ سے علیحدہ شے ہے اور اس کی کوئی باقاعدہ صورت تحریک کے نظام اور بنیادی دستوالعمل میں موجود نہیں اس کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے ہے قائدتحریک مجلس شوریٰ سے بے نیاز ہوکر احکام جاری کرسکتاہے۔یعنی قائد تحریک، تحریک کے بڑے افسروں سے کسی معاملے پر مشورہ لے تو سکتا ہے لیکن اس مشورہ پر عمل درآمد کا کسی طور پابند نہیں!
تحریک کی واحد ذمہ داری قائد تحریک پر ہے کے متعلق لکھا ہے کہ ؛
"تحریک کا قائد جب تک قائد تحریک ہےواحد ذمہ دار ہےاور ادارہ علیہ کے سوا کوئی طاقت اس کو اس کے منصب سے گرانہیں سکتی!”
(قول فیصل ، صفحہ 89)
"قول فیصل "چونکہ تحریک کے متعلق آخری الفاظ ہیں اورتحریک کا سارا نظام اور اِس کی بنا اس میں لکھی ہے تو خاکسارتحریک اس سے کسی صورت جدا نہیں اس میں جو نظام لکھا ہے وہ ہی اصل خاکسارتحریک کی بناوٹ ہے درج بالا سطور سے عیاں ہورہا ہے کہ تحریک کا واحد ذمہ دار قائد تحریک ہے اور ادارہ علیّہ کے سوا اس کو اس کے منصب سے کوئی گرا نہیں سکتا ۔اوپر ادارہ علیّہ کی تعریف واضح کردی گئی ہے کہ "ادارہ علیّہ بانی تحریک کی پیدا کردہ اقتدار کی رسمی صورت ہے اور تمام احکام اور اختیارات کا سرچشمہ ہے اس میں قائد تحریک کے سوا دوسرا شخص شامل نہیں” یعنی دیکھا جائے تو قائد تحریک کا اس کے منصب سے ادارہ علیّہ ہی ہٹا سکتا ہے لیکن ادارہ علیہ میں واحد شامل شخص خود قائد تحریک ہے تو ثابت ہوا کہ قائد تحریک کوبطور ادارہ علیّہ قائد تحریک ہی ہٹا سکتا ہے اور تحریک کے قائد کی تبدیلی کی واحد صورت” قول فیصل” میں میں کچھ یوں درج ہے !
"بانی تحریک اگرچہ مختارناطق ہےلیکن اس کو ہردم احساس دیا جاتا ہے کہ وہ ہردوسرے سپاہی کے برابر ہے، وہ بے شک مختیارناطق ہے۔ لیکن تحریک کے اندرکسی قابل تر فرد کی موجودگی میں اس کا فرض ہے کہ اپنی جگہ اُس قابل شخص کو دے کرآپ بطور سپاہی قطار میں شامل ہوجائے۔” (قول فیصل ، صفحہ 89)
ان سطور سے جس میں بانی تحریک (حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ) نے تحریک کے قائد کو بدلنے کا یہ ایک طریقہ لکھا ہے کہ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قائد ہی قائد کو منتخب کرسکتا ہے وہ بھی اس صورت میں کہ جب وہ محسوس کرے کے اس سے بہتر کوئی اور شخص تحریک کی صفوں میں کام کررہا ہے۔
اس کے علاوہ تحریک کے کسی عہدے دار کو یا ادنیٰ سپاہی کو اختیار نہیں کہ وہ قائد کا انتخاب اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق کرے ۔ اسی "قول فیصل” میں لکھا ہے کہ محلہ کا سالار کا انتخاب بھی محلہ کے افراد یاخاکسارسپاہی نہیں کرسکتے تو معاملہ بلکل صاف ہوجاتا ہے کہ اگر سالارمحلہ جو کہ تحریک کا سب سے چھوٹا عہدہ ہے اس عہدہ کو پُر کرنے کا اختیار کسی خاکسارسپاہی کو نہیں تو پھر یہ بات ناممکنات میں کہ کوئی عہدے دار یا خاکسارسپاہی قائد تحریک کو ان کے منسب سے ہٹا سکے یا دیگر صورت میں ان کو ہٹاکر کسی اور قائد کا انتخاب کرے۔

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates