پاکستان کو درپیش چیلنجز

پاکستان کو درپیش چیلنجز

کچھ لو گ اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کوچائنہ کے حوالے کر دیا ہے۔
ضروری بات جو سمجھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ جب انگریز اس خطے کو پاکستان اور ہندوستان کو تقسیم کرکے یہاں سے گیا تو وہ مکمل طور پر نہیں گیا تھا۔ پاکستان جو کہ ایک نوزائیدہ ملک تھا جس میں کو ئی ڈیپارٹمنٹ نہیں تھا جس میں کو ئی بھی شعبہ ترقی یافتہ نہیں تھا اس کو شروع ہی سے ایک بفر زون کی شکل میں بنایا گیا تھا اور اس پر امریکہ نے مکمل کنٹرل رکھا ۔ یہاں پرحکومتیں وہی لاتا رہا ۔ سیاست کا مائینڈ سیٹ اسی نے یہاں ڈیویلپ کیا ۔ اور پاکستان ایوب دور کے چند سالوں کے علاوہ ہر وقت کرائسس میں رہا۔ اس نےافغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ منسلک پٹی میں جہاں مذہبی عناصر کو تبلیغی لو گوں کی شکل میں ڈیویلپ کرنے میں مدد کی تو ساتھ ہی ساتھ کرپٹ سیاستدانوں کی پنیری بھی لگائی۔
اگر ہم نے پاکستان کو کسی کے حوالے ہی کرنا ہو تا تو اس کو روس کے حوالے کرتے کیونکہ جس طرح چین گوادر اور سی پیک کو ڈویلپ کرنے میں مدد کر رہا ہے وہ بھی یہی چاہتا تھا لیکن روس کے آ جانے سے پاکستان انڈیا اور روس کے درمیان سینڈ وچ بن جاتا ۔ بلکہ ختم ہو جاتا ۔ کیونکہ بنگلہ دیش کے معاملہ میں انڈیا کی مدد کرکے روس اپنا ٹرسٹ ختم کر چکا تھا۔اور پاکستان اپنے مزید ٹکڑے کروانے کے مو ڈ میں نہیں تھا۔
جنوبی ایشیاء کے ریسورسز سے مالا مال خطے پر دونوں سپر پاور کی نظر تھی۔ امریکہ نے پہلے پاکستان کی مدد سے روس کو گرایا ۔۔ پاکستان نےمجبوری اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے یہ جنگ لڑی اور روس کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ امریکہ کامیاب ھوا اس کا اگلا قدم خود جنوبی ایشیاء میں آ کر بیٹھنا تھا جو اس نے 9/11 کے نتیجے میں افغانستان میں آ کر پو را کر لیا۔
امریکہ کا منصوبہ تھا کہ اٹک سے پرے تک کا علاقہ افغانستان میں شامل کر دیا جائے اور بلوچستان کو علیحدہ کرکے افغانستان اور بلوچستان کے راستے جسے آج سی پیک کا نام دیا گیا ہے پر عملاً فو جی قبضہ کرنا تھا ۔ باقی پنجاب اور سندھ رہ جانا تھا اس کو بھی انڈیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا اور اس صورت میں پاکستان کو عملاً ختم کر دینا تھا ۔
لیکن پاکستانی ایجنسیوں اور فورسز نے امریکہ کے اس ساری منصوبے کو جو اس نے پچھلے60 سالوں میں تیار کیا تھا اور اس پر کام کیا تھا کو خاک میں ملا دیا۔ اب امریکہ اس ادھ مو ئے سانپ کی طرح بل کھا رہا ہے جس کا سر تو کچلا جا چکا ہے لیکن اس کے دھڑ میں ابھی جان باقی ہے ۔۔
کجا یہ کہ پاکستان کے علاقہ کو روس اور امریکہ اپنی طاقت کے زور پر اپنے قبضہ میں لیکر استمعال میں لاتے اب پاکستان اپنی مرضی کے ساتھ چائنہ اور روس کے ساتھ معاہدات کر رہا ہے جس کا فائدہ انشا اللہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور اس کے عوام کو ھو گا۔ چین کا موڈ بھی قبضہ گیری کا موڈ نہیں بلکہ تجارت کا موڈ ہے اور وہ بالکل نیا ڈاکٹرائن سامنے لا رہا ہے جو کہ تجارتی بنیادوں پر بقائے باہمی کے شاندار اصولوں پر مبنی ہے۔ چائنہ نے امریکہ اور یورپ کی جنگوں کے ذریعے قبضہ گیری کی مہموں کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اس سے سبق سیکھا ہے ۔ اس لئے ان کے برعکس پالیسی اپنائی ہے۔ جو کہ انسانوں کو مارنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کی بجائے تجارت کو بڑھانے کی پالیسی ہے۔
امریکہ انڈیا کے ساتھ مل کر اس خطہ میں گڑ بڑ کرنے کی بھرپور کو شش کرے گا ہو سکتا ہے افغانستان ایک بار پھر میدان جنگ بن جائے لیکن اب شکست امریکہ یو رپ کا مقدر ہے اور انڈیا بھی منہ کی کھائے گا۔
اگر چائنہ کی مدد سے 400 سال پہلے والے خشک تجارتی راستے بحال ہو گئےتو زیادہ تر تجارت کا انحصار بحری راستوں کی بجائے خشکی کے راستوں کی طرف ہو جائےگا۔ اوریہ منصوبہ طاقت کے مرکز کو بالکل بدل کر رکھ دینے والا منصوبہ ھو گا ۔ اور پاکستان اس سارے منصوبےکا مرکزو محور ہے۔ لیکن کچھ نادان لو گ چائنہ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کو بھی امریکہ اور یورپ کےساتھ تعاون کی پالسی کی نظر سے ہی دیکھ رہے ہیں۔ لیکن وہ بالکل غلط ہیں۔
پاکستان کے عسکری ادارے اس وقت پوری طرح چوکس ہیں اور وہ اپنے لئے ہی نہیں بلکہ پو رے جنوبی ایشیاء کی خوشحالی کیلئے لڑ رہے ہیں اور انشااللہ وہ اس میں کامیاب بھی ٹھہریں گے۔
اس لئے بد دل ہو نے کی ضرورت نہیں انشا اللہ اب اچھا وقت آنے والا ہے۔ اور اس اچھے وقت میں تاخیر اس لئے ھو رہی ہے کیونکہ امریکہ انڈیا کے ساتھ مل کر افغانستان میں گڑ بڑ کر رہا ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں پاکستان چائنہ اور روس مل کر اس پر بھی قابو پا لیں گے۔
اوررہی بات ان کرپٹ سیاستدانوں کی تو اب ان کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں کچھ عرصہ کیلئے کرتے رہیں گے۔ لیکن ان کو بھی بدلنا ہو گا۔
اللہ میرے ملک اور قوم کا حامی و ناصر ھو

کچھ لو گ اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کوچائنہ کے حوالے کر دیا ہے۔ ضروری بات جو سمجھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ جب انگریز اس خطے کو پاکستان اور ہندوستان کو تقسیم کرکے یہاں سے گیا تو وہ مکمل طور پر نہیں گیا تھا۔ پاکستان جو کہ ایک نوزائیدہ ملک تھا جس میں کو ئی ڈیپارٹمنٹ نہیں تھا جس میں کو ئی بھی شعبہ ترقی یافتہ نہیں تھا اس کو شروع ہی سے ایک بفر زون کی شکل میں بنایا گیا تھا اور اس پر امریکہ نے مکمل کنٹرل رکھا ۔ یہاں…

Review Overview

0

User Rating: 4.8 ( 3 votes)
0
Free WordPress Themes - Download High-quality Templates