نواسہ رسولﷺ حسین ؓابن ِ علی ؓ – حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ

مسلمانو! تاریخ ِاسلام لاکھوں واقعات کی سرخیوں سے آج تک رنگین ہے۔ گلشنِ اسلامی انہی شہداء کرام کے خون سے شاداب و مالامال ہوتا رہا ہے تاآنکہ تمہارے اجداد و اسلاف بھی اسی سنت پر چل کر دنیا سے سرخ روگئے یہی تمہاری زندگی کا سبق تھا جس کو تم خواب فراموش کی طرح بھول گئے! ممکن ہے کہ یہ واقعات تمہارے مطالعہ میں نہ آئے ہوں یا اگر پڑھے ہوں تو تمہارے حافظے نے ان کو محفوظ رکھنے کی تکلیف گوارہ نہ کی، مگر ایک ایسا واقعہ دنیا میں ظہور پذیر ہوچکا ہے جو اپنی صداقت کی اہمیت سے خود تمہاری لوحِ حافظہ کانقش فی الحجر ہے جس کوتم لاکھ بھلاؤ مگر وہ نہیں بھولتا، آفرینش عالم سے تابہ محشر تاریخ ایسا عدیم المثال واقعہ نہ پیش کرسکے گی۔ ہر سال محرم کا خون میں ڈوبا ہوا چاند دل کے ناسوروں کو کھول دیتا ہے۔ آنکھوں میں کربلا کی جیتی جاگتی تصویریں پھرنے لگتی ہیں رسولﷺ کا لاڈلا، مصطفیﷺ کا نواسہ ، فاطمہ ؓکی گودی کا لال ، علی ؓکی آنکھ کا تارا، محبوب کا محبوب، شہیدوں کا امام حسینؓ، شاہِ امام علیہ السلام، جس نے کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں فرات کے کنارے بھوکا پیاسا تسلیم و رضا کا قافلہ اپنے مالک کی رضا پر قربان کر ڈالا، امت کے اس ناخدا پر اُمت کے لاکھوں سلام کون سی وہ آنکھ ہے جس کے سامنے کربلا کا خونی منظر نہیں؟ کونسا وہ دل ہے جس میں حسینؓ کی یاد نہیں؟ کونسا وہ گھر ہے جس میں حسینؓ کا ماتم نہیں، کیا سال میں چالیس دن حسین پوشی کا غمناک اور عالمگیر نظارہ دنیا کے سامنے نہیں آتا ہے، امت اب تک اپنے پیغمبر زادے کی وفات کی رسم کو ادا کررہی ہے۔ مگر شہادت حسینؓ کے زندہ کارنامے کی روح اس کے ذہن میں فوت ہوچکی ہے، مرگ حسینؓ کے رونے والے اُسوہ حسینؓ کو بھلا بیٹھے ہیں شہادت حسین ؑکا مقصد آج صرف ماتم ِحسینؓ رہ گیا ہے ملت خلیل ؑ سنت ِ خلیل ؑ کو بدنام کررہی ہے۔
خلیلؑ اللہ نے خدا کی راہ میں بیٹا قربان کیا ہم دنبے اور بکرے ذبح کرکے مگن ہیں کہ لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہوگئے۔ حالانکہ یہ رسم مثال کی طور پر ہمارے لئے پیہم ایک سبق تھی کہ پیغمبر اپنے بیٹے قربان کرتے ہیں ہم اپنے بیٹے قربان کریں؟حسینؓ سرکٹاتے ہیں ہم اپنا سر کٹائیں، انہوں نے اپنے اسماعیل ؑذبح کئے ہم اپنے اسماعیل ذبح کریں؟ انہوں اپنے اکبرؓ شہید کرائے ہم اپنے اکبر شہید کریں؟ ان کا اصغرؓ پیاسا کربلا میں تڑپے، ہمارا اصغر کیوں شیرِمادر پیئے؟ ان کا قاسمؓ خون میں نہائے، ہمارا قاسم کیوں غسل ِ شادی کرے؟ ان کے عونؓ و محمدؓخاک میں لوٹیں ہمارے عون و محمد کیوں محلِ ناز میں سوئیں؟ ان کی سکینہ باپ اور بھائیوں کے لاشے دیکھے ہماری سکینہ گڑیا کھیلے؟ ان کی زینبؓ جہاد میں ہم سفر ہوں ہماری زینب کیوں گھر بیٹھی رہے؟ ان کی شیر دل بانوؓ بےچادر ہو، ہماری بزدل شہر بانو کیوں پردے میں رہے؟ ان کی بیبیوں کے ہاتھ رسیوں سے باندھے جائیں ہماری بیبیاں کیوں طلائی چوڑیاں پہنیں؟ ان کا کڑیل عباسؓ کنار ِ فرات پر شہید پڑا ہو ہمارے عباس کیوں جوانی میں نیند سوئے؟ ان کا بیمار کربلا کی زنجیروں میں پابجولاں ہو ہمارا بیمار کیوں بستر علالت پر آرام کرے؟ ان ؓ کا سر نیزے پر چڑھایا جائے، ہمارا سرکیوں تکیہ پر دھرا رہے؟ ان کے نونہال پانی کو ترسیں ہمارے لاڈلے کیوں شربت پئیں؟ ان کا قافلہ پیاسا شہید ہو ہم کیوں برف کی سبلیں لگائیں؟ ان کے معصوم بھوک سے تڑپ کر جان دیں ہم کیوں حلیم پکا پکاکرکھائیں؟ افسوں کہ یہ مثالیں اس لئے تھیں کہ ہم ان کو اپنے عمل سے زندہ کرتے جس طرح انہوں نے خدا کو راضی کیااسی طرح ہم بھی راضی کریں۔ انہوں نے خدا کی راہ میں سب کچھ لٹا دیا ہم کیوں باقی چھوڑیں؟ وہ مٹ گئے ہم بھی مٹ جائیں انہوں نے جان دی ہم بھی جان دے دیں۔ انہوں نے مال دیا ہم بھی مال دیں انہوں نے اولاد قربان کی ہم بھی اولاد قربان کریں۔ انہوں نے خویش و اقارب نثار کئے ہم بھی نثار کردیں۔ انہوں نے دولت ِدنیا کو ٹھوکر ماردی ہم اسے کیوں امید سے لگا کررکھیں؟ وہ موت کے خوگر تھے ہم زندگی پر کیوں مریں؟ انہوں نے خدا سے کوئی چیز نہ روک سکی، ہم کیوں روکیں؟ انہوں نے خدا کے لئے کسی کی پرواہ نہ کی ہم کیوں کسی کی پرواہ کریں؟ وہ پیاس کی شدتیں برداشت کرتے تھے، موت کی سختیاں جھیلتے تھے، ہم کیوں نہ جھلیں وہ زخموں سے چُور ہوکر بھی سجدہ شکر بجالاتے تھے ہم کیوں نہ بجالائیں؟ وہ خنجر کی تیز دھار تلے بھی نمازیں پڑھتے تھے ہم کیوں نہ پڑھیں؟ انہیں خدا عزیز تھا ہمیں جان کیوں عزیز ہو؟ انہیں دین پیارا تھا ہمیں دنیا کیوں پیاری ہو؟ ہم اُن سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں؟ وہ آزمائشوں میں ڈالے گئے ہم نہ ڈالے جائیں گے؟ ہمارا امتحان نہ لیا جائے گا؟
اے شہید کربلا! تم زندہ ہو۔ آؤ دیکھو تو تمہارے نانا کی اُمت کا کیا حال ہے۔ تم نے جس کیلئے اپنا خون بہایا تھا آج اُس امت کی کیا حالت ہے، دیکھو گے تو روؤگے۔ اس کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی والی وارث نہیں کوئی فریاد رس نہیں دستگیر نہیں، شہزادے اکبر ؓ کو بھیجو کہ جوانوں میں مرنے کی تڑپ پیدا کریں، عونؓ و محمد ؓکو بھیجو! ان کو خاک اور خون میں کھیلنا سکھائیں۔ اصغرؓ کو بھیجو کہ شیر خوار بچوں کو تیر کھانا سکھائیں! سکینہؓ اور زینبؓ کو بھیجو کے وہ قوم کی بیٹیوں میں اللہ کی راہ میں قربان ہونے والے باپ اور بھائی پیدا کریں!
آہ اِن مسلمانو کے خون جم گئے۔ ان کے ایمانوں میں جوش نہیں رہا۔ ان کے عضا سوگئے ان کے حوصلے بیٹھ گئے۔ اِن کے سینوں میں حرارت نہیں رہی ان کے دلوں میں تڑپ نہیں رہی ان کا اب کیا ہوگا۔ زمانے بھر کے ٹھکرائے ہوئے دھتکارے ہوئے اب جائیں تو کدھر جائیں۔ اے اللہ تیرے سوا کوئی آسرا نہیں۔ یا اِلاالعالمین! غیب سے کوئی سامان پیدا کر ان بے آبروؤں کو آبرو مند کر! اے کارساز! کارسازی فرما، یا مسبب الاسباب! سبب پیدا کر۔ یا رحمتہ العالمین رحم کر توحید کا عامل کر ، اسوہ رسولﷺ پر چلا، قرآن کو دیکھنے کی آنکھ دے ’’الاماسعی‘‘کی توفیق دے’’وعملو الصلحت ‘‘ کا عمل دے اسلام کو سربلند کرنے کی تڑپ دے ذوق ِ طلب دے، شوقِ جہاد دے سوزِ عشق دے سازِ حیات دے، رسمِ شبیری کی اصل روح اور نظریےکو سمجھنے کی توقیق عطاکر! آمین۔

 

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates