دو قومی نظریہ کی سراسر نفی! – ضیغم المشرقی

آج صبح جب میں نے فیس بک کھولا تو میں نے ایک پوسٹ دیکھی جوکہ میرے ساتھی دوست نذیر حسین سیال صاحب نے مجھے ٹیگ کی ہوئی تھی جس کا مقصد تھا کہ میں ان کی پوسٹ پر کمنٹس کروں کیونکہ اس پوسٹ میں پاکستان کے سابقہ اور موجودہ سرکردہ لیڈروں کے بیانات تحریر تھے کیونکہ نذیر سیال خاکسار ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت کے شعبہ سے منسلک ہوچکے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ وہ مجھ سے خاکسارتحریک کا نقطہ نظر لینا چاہتے ہوں گے حالانکہ ان پر پہلے سے واضح کرچکا ہوں کہ خاکسار تحریک کا اس وقت کوئی سیاسی پروگرام نہیں جس کی بنا پر کسی پر سیاسی نکتا چینی کی جائے یا کسی کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنایا جائے لیکن اس کے برعکس انہوں نے مجھے اکسایا کہ میں اُن کی اُس پوسٹ پر کمنٹس کروں تاکہ تحریک کا سیاست پر موجودہ نقطہ نظر عوام الناس کے سامنے آسکے میں نے بات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ان کی پوسٹ پر کمنٹس کر دیئے ہیں میں نے جو کمنٹس کئے اُن کمنٹس کی الگ سے ایک پوسٹ بناکر کرآپ ساتھیوں کے ساتھ اپنا اور خاکسارتحریک کا نقطہ نظر شئیر کررہا ہوں۔ میرا نقطہ نظر کسی کی ذات پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ میں اجتماعی طور پر قوم کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا اور تحریک کا نقطہ نظر پیش کررہاہوں اصل میں شخصیات کے کردار پر تنقید کرنے سے پہلے قومی سطح پر اگر ہم بطور قوم  اپنا گریباں چھانکیں تو قومی سطح پر ہمہیں اپنے اندر کئی کوتاہیاں اور بد اعمالیاں نظر آئیں گی جن کی وجہ سے قومی سطح ایسے افراد بطور لیڈرز ہم پر کہیں ہماری اپنی کوتاییوں کی وجہ سے مسلط ہوگئے ہیں یہ ہماری اپنی سالوں پر محیط پیدا کردہ اجتماعی بدکرداریاں اور بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے کہ قوم پر پچھلے ستر سال سے ایسے سیاہ کار لیڈر مسلط ہوگئے ہیں جن کا ہم پر مسلط ہونے میں ان کا اپنا کوئی کمال نہیں بلکہ وہ ہماری اجتماعی قومی بدکرداریوں بد اعمالیوں ریشہ دانوں نفرتوں کدرتوں مذہبی منافرتون اور فرقہ پرستیون کی وجہ سے ہم پر عذاب کی صورت میں مسلط ہوچکے ہیں تب تک مسلط رہیں گے جب تک ہم اپنی بداعمالیوں چھوڑ کر اللہ پر پوری طرح ایمان نہیں لے آتے تب تک درتی کے یہ ناخدا ہم پر عذاب کی صورت بنے رہیں گے اس پوسٹ میں پاکستان کے سرکردہ لیڈروں کے بیان پڑھیں اور خاکسار نذیر سیال صاحب کو میرا لکھا ہوا جواب پڑھیں۔
:
This is called a total Denial of TWO NATION Theory and the ideology of their Father (Mr. Muhammad Ali Jinnah), Yesterday their father said we are different from them our culture, religion and living standards are different from Hindu Nation and today, they said we are same Nation and there is nothing difference between us (Muslim & Hindus), actually It is called Dirty Politics of Sub-Continent according to Allama Inayatullah Khan Mashriqi (r.a) this dirty politics was derived from the political system which was given by the Angraiz Sarkar to this poor nation of Sub-Continent in the shape Congress and All India Muslim League. now it is proved that Al-Mashriqi’s ideology, predictions and forecasting regarding such type of Political system was very much true which is based on hatred, hypocrisy and falsification. Today it is crystal clear that, ever since this country was came into being we have seen that Al-Mashriqi (r.a) was the only man in the subcontinent who was stand like a rock against these such types of Siyahkar Leaders that’s, why he was pushed back to wall but his ideology which comes from Quran is still very much alive and today we Khaksars also stand against all these EVILS of the Society so come forward to contribute yourself and render your services in the name of Allah for the recreation of the society from gross root level and fight against all odds of the Society with your Elm and Khabar in accordance with Quran.
Today they denied their Father (Muhammad Ali Jinnah), if we denied our Father (Allama al Mashriqi (r.a)) also them there will no place for us to live in the world.
اللہ کا عذاب نافرمان قوموں پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے آتا ہے۔ اسلئے اُس وقت سے بچنے کے لئے آبھی سے تیاری کرلوورنہ یاد رکھو ازورئے قرآن اللہ کے قوانین اٹل ہیں ان میں کوئی لچک نہیں اور وہ ازروئے قرآن اپنے اٹل آئین الہیٰ کے مطابق نافرمان قومون کو صحفہ ہستی سے مٹادیتا ہے۔ اس بات سے کبھی مطمعین نہ ہوجانا کہ اللہ تم لوگوں سے ویسے راضی ہے جیسے کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں سے راضی تھا حقیقت میں اللہ نے تم سے منہ موڑ لیا ہے اس لئے تم پر ایسے سیاہ کار لیڈر مسلط کردئیے جن کا قول اور فعل ایک نہیں زبان ایک نہیں کردار ایک نہیں جو نہ خدا کو مانتے ہیں نہ اُس بھیجی ہوئی کتاب کو مانتے ہیں اور نہ اس کے رسول ﷺ کو مانتے ہیں نہ اُس کی ختم نبوت کو مانتے ہیں وہ تو صرف اپنے جاہ و جلال کو مانتے ہیں اپنے باغ باغیچوں مال و متاع اپنی امارت اپنی بےپناہ دولت زمینوں اور جائدادوں اور سب سے بڑھ کر اپنے نفس کو مانتے ہیں اور خلق خدا کو اللہ کی مخلوق نہیں بلکہ اپنا غلام سمجھتے ہیں یہ وہ طبقہ ہے جو روز ازل سےکاروں فرعون اور ھامان کی صورت میں خلق خدا کے لئے عذاب کی صورت بنتا آیا ہے اور جن قومون نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا اپنے اندر اخوت اور اتحاد پیدا کیا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ااور حکم خداوندی کے تحت ان کے خلاف صف بند ہوکر اپنی جان اور مال کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اعلان جہاد کیا ان سے اللہ راضی ہوا اور ان کو فتحیاب کیا باقی سب کی سب نیست و نابود ہوگئیں ذلت اور مسکنت ان قوموں کے چہروں پر لیس کردی گئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے اللہ کو راضی کیا جائے اُس کو راضی کرنے کی ایک ہی سبیل ہے کہ اُس کی 24 گھنٹے زبانی نہیں "عملی” عبدیت میں آجاؤ اُس کی غلامی کو سرآنکھوں سے قبول کرلو تاکہ تم سے بطور قوم عذاب کی صورت ٹلنے کی کوئی سبیل پیدا ہو اور وہ تمہیں درتی کے ان ناخداؤں کے عذاب سے دور کرنے کا ازورئے قرآن راستہ دکھا سکے اور بعدازاں تمہاری نیک اعمالی کا انعام ثمراب فی الارض اور بادشاہت زمین کی صورت میں عطا کرے تو لوٹ آؤ اللہ کی طرف اُس کی اصل "عملی” عبدیت کی طرف تاکہ تم پر اللہ کا رحم ناذل ہو اور وہ تمہیں بطور پاکستانی قوم کہ ان سیاہ کار لیڈروں سے نجات دلا دے، جنہوں تم پر پچھلے ستر سالوں میں عذاب کی صورت قائم کررکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
:
نہ مجھے ہے فکر شہرت نہ غم وسیلہ جوئی
میں سچائیاں سجاکر سرے راہِ تک رہا ہوں
:
وہ تاجر تھے نرے یہ تاجر قوم۔
یہاں پشتوں سے پیشہ رھبری ہے۔
(المشرقیؒ)

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates