فوٹو گیلری – ۱۹ مارچ ۱۹۴۰ء خاکسار شہداء کی نایاب تصاویر

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔۔۔۔!!

۱۹ مارچ ۱۹۴۰ء خاکسار شہداء کی نایاب تصاویر. جوکہ ۷۴ سال بعد خاکسارتحریک کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع کی جارہی ہیں۔ ان تصاویر کے لئے ادارۂ علیّہ اچھرہ لاہور خاکسار ڈاکٹر ناہید نظر صاحبہ کا شکر گذار ہے جنھوں نے یہ تصاویر ۷۴ سال بعد ادارۂ علیّہ کو ارسال کی اور تاکید کی کہ نئی نسل کو خاکساروں کی قربانی سے آگاہ کیا جائے اور نئی نسل جوکہ تاریخ حقائق سے بلکل نابلد ہے ان کو بتائے جائے کہ پاکستان کی بنیادوں میں اول اور آخر خون خاکساروں کا ہے۔
۱۹ مارچ ۱۹۴۰ء کے دن ۳۱۳ خاکساروں نےلاہور کی سڑکوں پر اپنے سینوں پر گولیاں کھاکر آزادیِ ہند کی تاریخ رقم کی اِسی قربانی کی بنیاد پر ٹھیک چار دن بعد ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو آل انڈیا مسلم لیگ نے محمد علی جناح کی قیادت میں قرداد مقاصد منٹو پارک لاہور میں پیش کی جو آگے چل کر دو قومی نظریہ کے تحت  قرارداد پاکستان کی صورت اختیار کرگئی اور آخرکار جولائی ۱۹۴۷ء میں انڈیپنڈنس ایکٹ ۱۹۴۷ء کے تحت انگریز حکومت نے کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کی ملی بھگت سے  تقسیم ہند کی سازش پر عمل پیرا ہوکر ہندوستان کو تاج برطانیہ کے ماتحت دو ڈومینین اسٹیٹس کی صورت میں تقسیم کردیا گیا۔
واضح رہے کہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا جلسہ عام سخت ترین گشیدگی کے ماحول میں منعقد ہوا تھا اور لاہور شہر میں انگریز حکومت کی طرف سے خاکساروں کے قتلِ عام کے بعد سخت ترین کرفیو کا نفاذ تھا اور ساتھ ساتھ کرفیو میں نرمی کے دوران دفعہ ۱۴۴ نافذ العمل رہتی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے سخت ترین حالات میں انگریز حکومت نے آل انڈیا مسلم لیگ کو جلسے کرنے کی کیونکر اجازت دی اور جلسہ سے ایک دن پہلے کرفیو کو ختم کیا گیا اور دفعہ ۱۴۴ میں بھی نرمی برتی گئی حالانکہ اس واقعے میں انگریز پولیس اور انتظامیہ کے کئی اعلیٰ ترین اھلکار شدید زخمی ہوئے اور ایک ڈی ایس پی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جہنم واسل ہوا تھا۔  اس واقع کے بعد خاکسارتحریک کو پورے ہندوستان میں خلاف قانون قرار دے کر بین کردیا گیا اور علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ کو جوکہ واقعے والے دن دہلی میں وائسرے ہند سے مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں ملاقات کرنے گئے تھے دہلی سے گرفتار کرلئے گئے اور دہلی سے سیدھا ویلور جیل مدراس میں جنوری ۱۹۴۳ء تک پابند سلاسل رہے اور اس واقعے میں ان کے اپنے ۱۴ سالہ بیٹے احسان اللہ خان اسلم بھی شہید ہوئے تھے اور خاکسار تحریک کو انگریز کے کالے قوانین کے تحت سیاسی کربلا میں موت کے گھاٹ اتار کر آل انڈیا مسلم لیگ کو محمد علی جناح کی قیادت میں ابھار کرسامنے لایا گیا اور مسلمانون کی واحد نمائندہ جماعت کے طور پر انگریز حکومت کی سرپرستی میں دو قومی نظریہ کے تحت خاکسارتحریک کے مدمقابل سرگرم عمل کیا گیا۔ نیچے فوٹو گیلری میں جو نایاب تصاویر شائع کی جارہی ہیں وہ اس واقعے کی بھرپور طریقے سے عکاسی کرتی ہیں۔

Get Adobe Flash player

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates